انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 398
۳۹۸ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اونٹ۔میرا تو خیال تھا میں خریدوں گا۔تو انہوں نے کہا تم اب خرید لو۔پوچھا کیا بھاؤ ،کس بھاؤ پر؟ انہوں نے کہا جس بھاؤ پر میں نے لیا ہے اسی بھاؤ پر تم لے لو، صرف نکیل مجھے دے دو ہر اونٹ کی۔تو اب یہ بڑا تاجر، تاجر دماغ یہ سوچ سکتا ہے کہ تکمیل مجھے دے دواسی بھاؤ پہ لے لو۔اگر وہ اٹھنی بھی قیمت سمجھی جائے تکمیل کی تو پچاس ہزار روپے کا انہوں نے آدھے گھنٹے میں نفع حاصل کر لیا۔میں بتایہ رہا ہوں کہ یہ جو کہا ہے کہ ہم نے فضیلت دی بعض کو بعض پر ، یہ فضیلت کا پہلا محل جو ہے وہ استعداد کا دینا ہے۔بعض زمیندار ہیں، میں نے خود پڑھا ہے یعنی دنیا کی بات کر رہا ہوں صرف اپنے علاقہ کی بات نہیں کر رہا۔یہاں سے ہزاروں میل دور سے یہ واقعہ ہوا کہ پندرہ ایکڑ کے مالک نے ساڑھے پانچ لاکھ روپیہ خالص آمد پیدا کی اور بہت سارے ایسے زمیندار بھی ہیں کہ جو پندرہ ایکٹر کے مالک ہیں اور سرخ مرچ کی چٹنی پیس کے اور روکھی روٹی کے ساتھ ان کا گزارہ ہے۔علم کے میدان میں، ہر علم کے میدان میں آپ کو نہایت ذہین ، آگے بڑھنے والے ملیں گے۔ہر علم کے میدان میں آپ کو اس علم کے حصول کی صلاحیت نہ رکھنے والے یا کم رکھنے والے پیچھے رہنے والے بھی ملیں گے۔انسان کی خدا تعالیٰ نے عظیم حقیقت بیان کی ہے اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔انسان کی ہر شعبہ زندگی میں آپ کو اس آیت میں جو وَ اللهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ کہ ہم نے جو عطا دی انسان کو اس میں بعض کو بعض پر فضیلت دے دی لیکن اسی آیت میں ساتھ یہ کہا کہ فضیلت اس لئے نہیں دی کہ تم میرے بندوں کے خدا بننے کی کوشش کرو بلکہ اس لئے دی ہے کہ جو تمہارے(Dependant) ہیں، جو تمہارے زیر کفالت ہیں ان کو اپنے برابر سمجھو۔جو کھاؤ نہیں دو۔جو پہنو انہیں پہناؤ جہاں رہو ا نہیں رکھو۔یہ جو ( Dependant) ہیں اس میں سب سے نچلا درجہ اُن غلاموں کا تھا جو اسلام سے پہلے غلام بنالئے گئے تھے لیکن فوری طور پر بغیر صحیح انتظام کے ان کو آزاد کر دینا انسان پر ظلم کرنا تھا۔ایسا ہی تھا جیسے چڑیا گھر کے شیر کو آزاد کرنے کے لئے لاہور میں انار کلی میں لا کے چھوڑ دیا جائے۔پہلے ان کو انسانیت کے آداب، شرافت کے آداب، اخلاق ، ان کی ذہنیت میں تبدیلی پیدا کرنے کا سوال تھا، بعد میں ان کو آزاد کرنے کا سوال تھا۔تو یہ جو میں بات بتا رہا ہوں کہ جو زیر کفالت ہیں ان کو اپنے برابر کا حصے دار سمجھو کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو آپ کھاتے ہو وہ اپنے غلام کو کھلاؤ۔