انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 397 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 397

۳۹۷ سورة النحل تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث میں حصہ دار بنانے کے لئے تیار نہیں اور خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ حصہ دار بھی وہ اس طرح بنا ئیں کہ جس کے نتیجہ میں وہ برابر کے حصہ دار بن جائیں۔پھر کیا وہ اس حقیقت کے جاننے کے باوجود، یہ حقیقت جو پہلے بیان ہوئی وہ یہ کہ دینے والا اللہ اور حکمت یہ ہے کہ سارے اس میں شریک کئے جائیں اور مختلف جگہوں میں خدا تعالیٰ نے بتایا کہ ہر انسان کے لئے میں نے اس ارض اس جہان کو ، اس کی نعماء کو پیدا کیا ہے کسی خاص گروہ کے لئے نہیں پیدا کیا۔انسان انسان میں اس معاملہ میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔رزق دنیا اور رزق سے مراد میری یہ پیسہ یا گندم نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے جو چیز بھی دی جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا وہ رزق کے لفظ کی اصطلاح کے اندر آ جاتا ہے۔ایک تو بالکل واضح اور غیر مشکوک یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں میں قابلیت زیادہ ہے۔ہر میدان میں استعدادیں مختلف بھی ہیں اور ہر میدان کی استعداد میں فرق بھی ہے مثلاً تجارت کو لے لیں۔مشہور ہے کہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جس چیز کو مٹی کو بھی ہاتھ لگا ئیں تو وہ سونا بن جاتی ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جو سونے کو بھی ہاتھ لگا ئیں تو وہ مٹی بن جاتی ہے یعنی ان میں جو مٹی کو ہاتھ لگا ئیں جن کے متعلق کہا گیا وہ سونا بن جاتا ہے خدا تعالیٰ نے یہ استعداد اور صلاحیت پیدا کی ہے کہ وہ تجارت کے میدان میں آگے بڑھیں اور پیسے جمع کریں۔مدینہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ایک جس وقت خدا تعالیٰ نے دنیا جہان کی دولتوں کا رخ مدینہ کی طرف پھیر دیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثاروں کے قدموں میں ساری دنیا کی دولتوں کو اکٹھا کر دیا۔اس کی ابتدا تھی ابھی۔تاجروں کا کوئی قافلہ ایک لاکھ اونٹ مدینہ کی منڈی کی طرف لا رہا تھا۔راستہ میں ایک صحابی گزر رہے تھے اپنے کسی کام سے وہاں انہوں نے دیکھا یہ مال منڈی میں جا رہا ہے۔وہ بھی تاجر تھے انہوں نے غور کیا۔انہوں نے دل میں فیصلہ کیا مال اچھا ہے میں خریدوں گا۔لیکن حکم یہ ہے اسلام کا کہ بھاؤ کو بگاڑو نہ منڈی میں جانے دو۔وہاں جو منڈی کا بھاؤ نکلے اس کے مطابق خریدو۔منڈی کے باہر بھاؤ بگاڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے دل میں ایک خیال قائم کیا ، سوچا، ایک فیصلہ کیا منڈی میں آگئے۔ان سے پہلے ایک اور صحابی نے سودا کر لیا ایک لاکھ اونٹ کا۔وہ آپس میں سارے بھائی بھائی اور دوست تھے۔وہ جنہوں نے رستے میں دیکھا تھا انہوں نے آکے اپنے دوست کو کہا تم پہلے آگئے منڈی میں تم نے یہ مال خرید لیا ایک لاکھ