انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 360 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 360

۳۶۰ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سامنے پیش ہیں۔ہماری نجات کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ وہ ہمیں بخش دے وہ ہمیں اپنی رحمت کی چادر میں لپیٹ لے وہ ہم سے محاسبہ نہ کرے۔کیونکہ اگر اس نے ہم سے محاسبہ کیا تو ہم یقیناً ہلاک ہونے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے محبوب رسول ! تو ان لوگوں پر جو تجھ پر ایمان لائے ہیں یہ بات کھول کر بیان کر دے کہ ایک دن ایسا بھی تمہیں دیکھنا نصیب ہے تم اس کے لئے تیاری کرو اور چونکہ خدا تعالیٰ رحیم ہے۔اس لئے ہم اس دنیا میں انہیں وہ راہ بتاتے ہیں کہ جس راہ پر چل کر (اگر وہ خلوص نیت سے چلیں ) وہ حشر کے دن اس قسم کے عذاب سے بچ سکتے ہیں اور وہ راہ اللہ تعالیٰ یہ بتا تا ہے کہ اے میرے رسول تو میرے ان بندوں پر جو تجھ پر ایمان لا کر میرے حقیقی بندے بننے کی خواہش رکھتے ہیں یہ کھول کر بیان کر دو کہ وہ صلوة کو اپنی پوری شرائط کے ساتھ قائم کریں۔عربی زبان میں صلوۃ کے وہ معنی جو ہم سب سے پہلے اس قسم کی آیات میں کرتے ہیں۔شریعت کے ہیں اس کے معنی اس نماز کے بھی ہیں کہ جو ہم ہر روز پانچ وقت ادا کرتے ہیں لیکن جہاں اس لفظ کے یہ معنی ہوں۔وہاں سیاق و سباق سے اس کا پتہ لگ جاتا ہے لیکن جہاں سیاق وسباق سے اس بات کا پتہ نہ لگے کہ اس لفظ کے معنی اس نماز کے ہیں۔جو ہم ہر روز پانچ وقت ادا کرتے ہیں وہاں اس کے پہلے معنی شریعت کے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وہ اس شریعت کے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی شکل میں نازل ہوئی ہے تمام احکام کو پوری شرائط کے ساتھ قائم کریں اور پوری شرائط کے ساتھ انہیں ادا کریں۔پھر صلوۃ کے ایک معنی (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) اس نماز کے بھی ہیں جو ہم پانچ وقت ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہی یقیمُوا الصلوۃ وہ اس نماز کو بھی اس کی پوری شرائط سے ادا کریں۔پھر صلوۃ کے تیسرے معنی دعا کے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ اگر تم شریعت کے قیام اور نماز کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنے میں محض اپنی طاقت پر توکل رکھتے ہو۔تو یہ تمہارے لئے ممکن نہیں اگر تم شریعت کا قیام چاہتے ہو، اگر تم نماز کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنا چاہتے ہو، تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم دعاؤں کے ذریعہ میری مدد کو حاصل کرو۔جب تک تمہیں اللہ تعالیٰ تو فیق عطا نہ کرے تم اس وقت تک شریعت کو قائم نہیں کر سکتے تم اس وقت تک نماز کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے تم اپنے خدا سے اس کی تو فیق چاہو تم اس سے مدد اور نصرت مانگو۔