انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 361 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 361

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۶۱ سورة ابراهيم صلوۃ کے چوتھے معنی مغفرت چاہنے کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے تم مجھ سے دعا کرو کہ اے ہمارے رب! ہم اپنی بساط کے مطابق تیرے احکام کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے لیکن تو نے شیطان کو کھلا چھوڑ رکھا ہے وہ بعض دفعہ ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور بعض دفعہ وہ ہمارے غیر کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس طرح ہمیں صراط مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور ہمارے اعمال میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم اپنے زور سے تو اس سے بیچ نہیں سکتے اس لئے تو ہماری مددفرما اور ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ محض تیری خاطر تیرے احکام کو بجا لانے والے ہوں اور اس بجا آوری میں ہمیں دنیا، دنیا کی عزت یا دنیا کی کوئی وجاہت مطلوب نہ ہو پھر اے ہمارے خدا اگر ہم تیری توفیق پا کر اعمال صالحہ بجالائیں گے تو بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اندر کوئی رخنہ رہ جائے اور ایسا رخنہ رہ جائے۔جس کا ہمیں بھی علم نہ ہو۔اس لئے ہماری تجھ سے آخری استدعا یہ ہے کہ تو ہمیں اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے تو ہماری کمزوری کو ننگا نہ کر تو ہمارے نگ کو ظاہر نہ کر۔غرض اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ اے میرے رسول ! تو ان لوگوں پر جو میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور تیرے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور شریعت قرآنیہ پر ایمان لاتے ہیں۔یہ کھول کر بیان کر دے کہ وہ صلوۃ کو قائم کریں اور صلوۃ کے جو معنی ہیں وہ میں نے اس وقت آپ کے سامنے بیان کر دیئے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ یعنی وہ عطاء الہی کو رضاء الہی کی راہ میں خرچ کریں۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس کو اس طرح خرچ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا انہیں حاصل ہو۔رزق کے معنی میں ایک تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو لینے والا ہے اس کی ضرورت کو پورا کیا گیا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ جب ہم تمہیں دینے لگے تھے۔تو ہم نے اس بات کا خیال رکھا تھا کہ تمہاری ضرورتیں ( جو بھی ہیں ) پوری کرتے چلے جائیں۔ہماری عطا اس رنگ کو اختیار کرے ہماری عطا اس شکل میں ہو کہ تمہاری طاقت اور استعداد اور قوت کی وجہ سے تمہاری جو ضرورتیں بھی ہوں۔( جن کے بغیر تم ترقی نہیں کر سکتے ) ان کا خیال رکھا جائے اس لئے تم اب ان لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھو جنہیں اب تم دے رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔غرض وہ دن تمہیں پیش آنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اس دن سے پہلے تم اپنے بچاؤ کے سامان کر