انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 359
۳۵۹ سورة ابراهيم تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث منافقانہ اور فتنہ انداز باتیں ، نمازوں میں تمہاری ستیاں، دیگر اعمال بجالانے میں تمہاری غفلتیں غرضیکہ تمام کو تاہیاں اور خطائیں تمہارے بڑے اعمال کے بدنتائج تمہارے سامنے نہایت ہولناک شکل میں کھڑے ہوں گے اور تم میں سے ہر ایک یہ چاہے گا ( جب وہ اپنے اعمال کے بدنتائج کو اپنے سامنے دیکھے گا) کہ کاش اگر زمین بھر سونا بھی میرے پاس ہوتا ، تو آج میں اپنے رب سے یہ سودا کرتا کہ اے میرے رب! مجھ سے یہ سونا لے لے اور مجھے ان اعمال بد کے بڑے نتائج سے بچالے۔تم میں سے بہت سے اپنے اعمال کے بڑے نتائج دیکھ کر سوچ رہے ہوں گے کہ اگر تمام دنیا اور اس کی تمام چیزیں میرے پاس ہو تیں تو آج میں اپنے رب سے یہ سودا کرتا کہ ساری دنیا اور اس دنیا کی تمام چیزیں تو مجھ سے لے لے اور مجھے اس سزا سے بچالے جو مجھے اس وقت نظر آ رہی ہے کہ میرے گناہوں اور بدیوں اور برائیوں اور خطاؤں کے نتیجہ میں مجھے ملنے والی ہے۔تم میں سے بعض اس سوچ میں ہوں گے کہ اگر دنیا و ما فیہا ہی نہیں بلکہ اتنی ہی اور چیزیں بھی ہمارے پاس ہوتیں تو ہم اپنے رب کے حضور اس سودا کی پیشکش کرتے کہ اے خدا یہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزیں اور اتنی ہی اور ہم سے لے لے لیکن ہمیں اپنے اس قہر کی نگاہ سے بچالے۔جو تیری آنکھوں میں ہمیں چھلکتا نظر آ رہا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دن کسی بیچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر تمہارے پاس یہ سب کچھ ہوتا بھی تب بھی تم خدا کے قہر سے اس دن بچ نہیں سکتے۔وَلا خلل وہ دن ایسا بھی ہے کہ اس دنیا میں غلط راہ پر چلانے والے دوست اپنی دوستیاں چھوڑ جائیں گے شیطان جس کا کام ہی خدا کے بندوں کو گمراہ کرنا ہے وہ ایک کو نہ میں دبکا بیٹھا ہوگا اس کو اپنی فکر پڑی ہوئی ہوگی۔اس وقت وہ اپنے چیلوں (اولیاء الشیطان) کی طرف توجہ نہیں دے سکے گا اور وہ غلط قسم کے مذہبی راہنما جو بعض دفعہ اس دنیا میں کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے جنت میں جانے کی ذمہ داری لیتے ہیں تم یہ کام کر دوان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنے منہ سے شفاعت کا ایک لفظ بھی نکالنے کی جرات نہیں کر رہے ہوں گے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا ایک دن تم نے دیکھنا ہے لَا بَيْعَ فِيْهِ وَلَا خلل اس دن نہ تو کوئی سودا ہو سکے گا اور نہ کسی کی دوستی کام آسکے گی وہ دن تو ایسا ہے جب خدا تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے جب خدا تعالیٰ جو قادر حقیقی ہے جب خدا تعالیٰ جو رفعتوں اور عظمتوں کا مالک ہے اور جبروت حقیقی طور پر اس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اس کی صفات کے جلوے اس میدان حشر میں اس طرح جلوہ فگن ہو رہے ہوں گے کہ انسان تو انسان فرشتے بھی لرز رہے ہوں گے۔ہر ایک کو نظر آ رہا ہوگا کہ آج ہم اپنے مالک حقیقی رب کے