انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 329
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۳۲۹ سورة يوسف ہمارے اس تو کل کو قبول کر کے ہمیں اپنی پناہ میں لے لے اور ہمارا سہارا بن جائے۔پھر دنیوی سہارے ہمیں پورے طور پر بدیوں سے نہیں بچاسکتے ، دنیوی سہارے پورے طور پر اعمال بجالانے کی ہمیں توفیق عطا نہیں کرتے بلکہ وہ تو ہمارے خیالات کو اور بھی گندہ کر دیتے ہیں پھر دنیوی سہاروں کے نتیجہ میں یہ خرابی پیدا ہوتی ہے کہ ہم بہتوں کے احسان کے نیچے آجاتے ہیں اور یہ بات ہمارے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن جاتی ہے مثلاً ایک کام ہم نے زید سے کروایا دوسرا بکر سے کروایا۔تیسر اعمر سے کروایا۔چوتھا کسی اور سے کروایا اور پانچواں کسی اور سے کروایا اس طرح ہم نے دس کام مختلف دس سہاروں سے کروائے اور پھر ایک ایسا موقع آگیا کہ زید نے کہا کہ تم میرے زیر احسان ہو اس لئے تم میرا یہ کام کر و بکر نے کہا تم میرے زیرا احسان ہو اس لئے تم زید کا کام بالکل نہ کرو اور اس طرح ہمارے لئے اگر ہم دنیا کے سہارے ڈھونڈتے ہیں تو بڑی تکلیف بن گئی ہم مصیبتوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن جو شخص صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا سہارا ڈھونڈتا ہے اور محض اس پر توکل کرتا ہے وہ غیر اللہ سے آزاد ہو جاتا ہے پھر غیر اللہ کی اسے کوئی فکر نہیں رہتی۔وہ ایک ہی ہستی ہے جس کے ساتھ اس نے اپنا پختہ تعلق قائم کر لیا جس پر اس نے تو کل کیا جس پر اس نے بھروسہ رکھا اور اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود یہ سمجھا کہ وہ پاک ذات اتنی عظیم ہے کہ وہ میری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے مجھ پر احسان پر احسان کرتی چلی جائے گی اور چونکہ انسان غیر اللہ کے احسانوں سے آزاد ہو کر بہت سے دکھوں سے بچ جاتا ہے اس لئے وہ اس قابل ہوتا ہے کہ سکون کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارے اور اپنی زندگی کا اور اپنی حیات کا مقصد پورا کر لے۔دوسری چیز جو ہمیں دنیوی سہاروں میں نہیں ملتی اور وہ صرف ہمیں اللہ پر ہی توکل رکھنے سے حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی غیر طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی لیکن کوئی دنیا دار شخص کسی دوسرے شخص کو اس رنگ میں سہارا نہیں دے سکتا کہ کوئی غیر چیز اسے نقصان نہ پہنچائے مثلاً وہ بیماریوں سے نہیں بچا سکتا فرض کرو وہ اس علاقہ میں حاکم اعلیٰ ہی ہے اور اس کی چلتی ہے لیکن پھر بھی وہ بیماریوں سے نجات نہیں دے سکتا آفات آسمانی سے وہ نہیں بچا سکتا اس کی اپنی اندرونی کمزوریوں سے اس کی اصلاح نہیں کر سکتا یہ ہوسکتا ہے کہ سہارا دیتے دیتے وہ اس کو اس قدر اٹھالے کہ وہ اسے اپنا وزیر بنالےلیکن پھر بعد میں کچھ عرصہ گذرنے پر اسے علم ہو کہ یہ شخص وزارت کا اہل نہیں اسی لئے وہ اسے وزارت سے