انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 330

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۳۰ سورة يوسف ہٹا دے اور اس طرح دنیا کا ایک چھوٹا سا آسمان جو اس نے بنایا تھا وہاں سے اسے جھٹکا دے کر نیچے گرا دے اور اس کی ہڈی پسلی توڑ دے غرض کوئی دنیا دار شخص جو کسی دوسرے کے لئے اس دنیا میں سہارا بنتا ہے اس میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ اس کو ہر قسم کے نقصانوں سے بچالے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں وہ اگر کسی کا سہارا بنے تو اس کو ہر قسم کے نقصان سے بچا سکتی ہے۔خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۱ تا ۳۸۹) آیت ۸۸ يبَنِي اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَا يَسُوا مِنْ زَوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَايُعَسُ مِنْ رَّوحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ ہمارے دلوں میں مایوسی پیدا نہیں ہوتی اور نہ اسے پیدا ہونا چاہیے کیونکہ خوف اپنی جگہ پر قائم ہے اور امید اپنی جگہ پر قائم ہے۔گو ہمیں ڈرتے ڈرتے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی زندگی کے کسی لمحہ میں بھی ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی مومن کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کافر کی علامت قرار دیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّه لا يَايَسُ مِنْ رَّوحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ۔اصل بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کا فرلوگوں کے سوا کوئی انسان نا امید نہیں ہوتا۔غرض خوف اور مایوسی میں بڑا فرق ہے اور ہمیں اس فرق کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ کہا ہے کہ وہ شخص یا قوم جو خوف کے مقام کو اختیار کرتی ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارتی ہے۔وہ اسے دو جنتیں دیتا ہے ایک جنت اسے اس ورلی زندگی میں عطا ہوتی ہے اور ایک جنت اُخروی زندگی میں اسے ملتی ہے ورلی زندگی کی جنت کا اس حدیث میں بڑی وضاحت کے ساتھ ذکر آیا ہے جو میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں سنائی تھی۔کیونکہ جس معاشرہ میں غیبت نہ ہو۔جس معاشرہ میں فخر و مباہات نہ کیا جائے۔جس معاشرہ میں کوئی شخص بھی اپنے بھائی سے تکبر کے ساتھ پیش نہ آئے اس میں عجب اور خود پسندی کا مظاہرہ نہ ہو کوئی ایک دوسرے پر حسد نہ کر رہا ہو۔بلکہ سارے ہی ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہوں جس معاشرہ میں خدا تعالیٰ کی عبادت ریا کے طور پر نہ ہو بلکہ اخلاص کے ساتھ ہو یعنی ہر ایک شخص مخلصانہ دل کے ساتھ