انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 328
۳۲۸ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اور توکل کرتے ہیں اور تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اور ہماری انسانی برادری کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے چونکہ یہ زمانہ ایک عالمگیر اخوت اور برادری کا ہے اس لئے اس زمانہ کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے اور ہماری انسانی برادری کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے کیونکہ تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے تیرا ہی حکم جاری ہے اور تیرے فیصلے ہی خیر و برکت والے ہیں تو علم کامل کا مالک ہے۔غرض وہ آٹھ کمزوریاں جو دنیوی سہاروں میں پائی جاتی تھیں اور جن کے نتیجہ میں ہم ان سہاروں کو وفا والے اور صحیح فائدہ پہنچانے والے سہارے قرار نہیں دے سکتے ان آٹھ کمزوریوں کے مقابلہ میں ہمارے رب اللہ میں (جہاں تک تو کل کا سوال ہے ) آٹھ ایسی بنیادی صفات پائی جاتی ہیں کہ اگر ہم اس پر کامل توکل رکھیں (اور اس پر توکل رکھنا چاہیے ) تو ہمیں کامل سہارا مل جاتا ہے پھر ہم بے سہارا نہیں رہتے پھر ہمارے بچے جو یتیم ہو جاتے ہیں وہ یتیم نہیں رہتے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یتامیٰ کے حقوق کی اتنی حفاظت کی ہے کہ ماں باپ بھی اپنے بچوں کے حقوق کی وہ حفاظت نہیں کر سکتے پھر ہم میں سے وہ جن کو دنیا دکھ دے رہی ہوتی ہے بے سہارا نہیں ہوتے ان کی بشاشت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔وہ اسی طرح بشاشت صادقہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت اور بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی میں لگے رہتے ہیں اور وہ یقین کامل پر ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم نے اللہ کو سہارا بنالیا ہے ہم صرف اسی پر ہی تو کل کرتے ہیں اس لئے وہ اپنے فضل سے ہماری ضرورتوں کو بھی پورا کرے گا اور ہمیں اپنی حفاظت میں بھی لے لے گا۔اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کے نتیجہ میں جو چیز ہمیں حاصل ہوتی ہے اور جس کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ چیز دنیا کے سہاروں کے نتیجہ میں ہمیں حاصل نہیں ہوسکتی اور جب تک اللہ تعالیٰ کو ہم اپنا سہارا نہ بنا ئیں اور اس پر توکل نہ رکھیں اپنے کام اس کے سپرد نہ کریں اس اعتماد کے ساتھ کہ ہم اپنے کام خود بھی اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک وہ ہمیں مدد نہ پہنچائے جب تک وہ ہمیں سمجھ نہ دے جب تک وہ ہمارے لئے سامان نہ پیدا کرے جب تک وہ دلوں میں ہماری محبت نہ پیدا کرے ہمارے لئے شفقت پیدا نہ کرے دنیوی سہاروں میں ہمیں وہ چیزیں نہیں مل سکتیں جو اللہ تعالیٰ کے سہارا سے ہمیں مل سکتی ہیں اور جو صرف اس وقت ہمیں ملتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ پر ہمارا کامل تو کل ہو اور اللہ تعالیٰ