انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 326
۳۲۶ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث پیدا کرتا ہے کہ انسان اس میں ہو کر اور اس سے زندگی حاصل کر کے نئے سرے سے روحانی زندگی پا لیتا ہے پس فرمایا اگر تم نے تو کل کرنا ہے اور تمہیں ضرور تو کل کرنا پڑتا ہے اس کے بغیر چارہ ہی نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے تو الحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ پر توکل کرو یعنی اس زندہ ہستی پر توکل کرو جس پر موت وارد نہیں ہوتی۔پھر ہمیں دنیوی سہاروں میں یہ عیب نظر آتا ہے کہ وہ سہارا دینا چاہتے ہیں اور کام بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ سہارا دینے اور کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔اس کی طاقت اور قدرت ان میں نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ (الشعراء :۲۱۸) میں غالب ہوں مجھے ہر قسم کی قدرتیں حاصل ہیں میں ایک بات کا فیصلہ کر لوں تو دنیا کی کوئی طاقت میرے اس فیصلہ کورڈ نہیں کر سکتی میرا ہی حکم جاری ہے پھر دنیا دار انسان سود فعہ خوشامد کرتا ہے۔دس بار خوشامدوں کا نتیجہ نکل آتا ہے باقی ضائع ہو جاتی ہیں وہ تو بار بار دنیا کے سہاروں کی طرف جھکتا ہے لیکن دنیا کے سہارے بار بار اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں ایسا نہیں ہوں میں جہاں عزیز ہوں وہاں الرحیم بھی ہوں جتنی دفعہ تم میرے سامنے آؤ گے اتنی ہی دفعہ تم مجھ سے فیض حاصل کرو گے صرف خلوص نیت ہونا چاہیے اور توکل اپنی پوری شرائط کے ساتھ کیا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تم مجھ پر بھروسہ کرو گے تو جو سہارا تمہیں ملے گا وہ حکمت سے خالی نہیں ہو گا وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (الانفال :۵۰) تمہارا بھروسہ اس اللہ پر ہو گا جو حکیم ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ انسان بعض دفعہ غلط دعا کرتا ہے اور اسے یہ نظر آتا ہے کہ اس کی وہ دعا قبول نہیں ہوئی لیکن حقیقتا اس کی وہ دعا قبول ہو چکی ہوتی ہے کیونکہ دعا سنے والا حکیم ہے وہ حکمت کاملہ کے نتیجہ میں دعا کو سنتا ہے وہ جانتا ہے کہ جو دعا اس شخص نے مانگی تھی وہ آخر فائدہ مند اور سود مند نہیں ہونی تھی اس لئے اس نے اسے ظاہری شکل میں رڈ کر دیا لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے جس کے لئے دعا کی گئی تھی اس نے کچھ ایسے سامان پیدا کر دیئے جو اس کے لئے زیادہ مفید تھے غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میری طرف آؤ، مجھ پر بھروسہ رکھو، اگر تم مجھے پر بھروسہ رکھو گے تو میں تمہیں جو سہارا دوں گا وہ حکیم اللہ کا سہارا ہوگا وہ بے حکمت سہارا نہیں ہوگا، وہ بعد میں بدنتائج پیدا کرنے والا نہیں ہوگا وہ عارضی خوشیوں کے بعد دکھوں میں مبتلا کرنے والا نہیں ہوگا۔