انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 327
۳۲۷ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث میں نے بتایا تھا کہ دنیوی سہاروں میں ہمیں یہ نقص نظر آتا ہے کہ ان میں علم کامل نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے وہ سہارے ناقص ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سورہ اعراف میں فرماتا ہے۔وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے کوئی چیز ظاہری یا باطنی لحاظ سے اور اس کے علم سے بالا نہیں بعض اس کا جو ظاہر ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور ان باطنی قوتوں اور استعدادوں کو بھی وہ جانتا ہے جو بے شمار ہیں اور ایسی ہیں کہ انسان کو ان کا علم ہی نہیں صرف چند گنتی کی باتیں ہیں کہ جن کا علم انسان نے اپنی کوشش کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ سے صفتیں حاصل کر کے حاصل کر لیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہر چیز اس کے علم کے اندر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے کسی ہستی پر توکل کرنا ہو تو تمہیں اس ہستی پر توکل کرنا چاہیے جو کامل علم کی مالک اور ہر علم کا سر چشمہ اور منبع ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات الْعَلِيمُ ہے وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا (الاعراف:۹۰) ہر چیز اس کے علم کی وسعتوں کی چادروں میں لپٹی ہوئی ہے عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا (الاعراف:۹۰) اس لئے ہم اسی پر توکل کرتے ہیں چونکہ ہم ناقص علم کے نتیجہ میں غلط سہارے ڈھونڈتے ہیں اس لئے سہارا حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ میرے پاس آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں شخص کے پاس ہماری سفارش کر دیں اس شخص کا آپ کے ساتھ تعلق ہے اور میں اس کے نام سے وقف بھی نہیں ہوتا پس ناقص علم کے نتیجہ میں سہارا لینے والا بھی غلط سہارا لے لیتا ہے اور سہارا دینے والا بھی غلط سہارا دے دیتا ہے حالانکہ سہارا حاصل کرنے کے لئے انسان کو ایسی ہستی کی ضرورت ہے جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہو اور وہ ایسی ہستی ہو کہ اگر سہارا مانگنے والا اس سے غلط سہارا بھی مانگ لے تو وہ اسے صحیح سہارا دے دے یعنی گو بظاہر اس کی دعارد ہو جائے لیکن حقیقتاوہ قبول ہو رہی ہو اور جو سہارا وہ دے جو مد دوہ کرے یا جو احسان وہ کرنا چاہے وہ کامل علم کے منبع سے پھوٹ رہا ہو اور انسان کے لئے کسی قسم کا خطرہ پیدا نہ ہو۔جب ایسا سہارا انسان کومل جائے تو پھر اس کے اور اس کے مخالفوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلام اور اسلام کے منکروں کے درمیان جو فیصلہ ہوگا وہ حق کے ساتھ ہوگا اس لئے یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الفيحين (الاعراف: ۹۰) اے ہمارے رب ! تو علم کامل کا مالک ہے اس لئے ہم صرف تجھ پر بھروسہ