انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 325
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۲۵ سورة يوسف کی چادر میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور بغیر کسی استحقاق کے اللہ تعالیٰ اس کو اتنی نعمتیں عطا کرتا ہے کہ وہ عاجز بندہ اس کی طرف جھکتا ہی چلا جاتا ہے اور اس کے راستہ میں فنا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَلَيْهِ توكلنا تم یہ کہ دو کہ ہم نے اپنے رحمان خدا پر ہی تو کل کیا ہے۔ہمارا یہ دعویٰ کہ کامیاب اسلام نے ہی ہونا ہے کامیاب مسلمانوں نے ہی ہوتا ہے ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں نہیں فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ في ضَللٍ مُّبِينِ (الملك :۳۰) یہ سب کچھ رحمان خدا کی رحمت کے نتیجہ میں ہوگا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام غالب آئے اس لئے بہر حال یہ فیصلہ جاری ہوگا۔اگر کسی نے بھروسہ کرنا ہے اور اس کے بغیر یہ زندگی گزر نہیں سکتی تو تمام عارضی اور ناقص اور بے وفا سہاروں کی بجائے اللہ تعالیٰ پر اسے بھروسہ کرنا چاہیے جو رحمان ہے وہ اسے اتنی نعمتیں دے گا کہ ان کے مقابلہ میں اس نے کچھ بھی کیا نہیں ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں کامل حیات کا مالک یعنی الکی ہوں، مجھ پر موت وارد نہیں ہوتی اگر تم مجھ پر توکل کرو گے اور مجھے اپنا سہارا بنالو گے تو تمہیں یہ خوف نہیں ہوگا کہ جسے تم نے سہارا بنایا ہے وہ کہیں مر نہ جائے یا ان ویلڈ (Invalid) نہ ہو جائے بعض دفعہ ایسی بیماری آتی ہے کہ انسان کے ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتے یا بعض دفعہ مثلاً انسان پاگل ہو جاتا ہے پس گواس دنیا کی زندگی کامل زندگی نہیں لیکن اس ناقص زندگی کا نسبتی طور پر جو کمال ہے وہ بھی باقی نہیں رہتا غرض الحی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے پس اے انسان! تو اسی پر توکل کر توکل علیہ۔تو اس ذات پر توکل کر جو خود زندہ ہے اور سب زندگی اور حیات اس کامل حیات سے فیض یافتہ ہے اگر اس کی اس صفت کا جلوہ نہ ہو تو کوئی وجود زندہ نہیں رہ سکتا اور یہ خطرہ ہی نہیں کہ کبھی وہ مرجائے وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ( الفرقان : ۵۹) وہ الحی ہے موت اس پر آ ہی نہیں سکتی۔پھر فرمایا اگر تم نے اللہ پر توکل کرنا ہے تو پھر تمہیں اس کی عبادت میں مشغول رہنا پڑے گا اس کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہنا پڑے گا تم اسی پر توکل رکھو اور یہ سمجھ کر رکھو کہ اس کی ذات الْحَی ہے تمام زندگی کا سر چشمہ اور منبع اسی کی ذات ہے زندگی کے لحاظ سے دنیا رنگ بدلتی رہتی ہے۔اس دنیا کی زندگی تو گزر جاتی ہے اور موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے پھر وہ العتی خدا ایک نئی زندگی اسے دیتا ہے پھر روحانی طور پر لوگ یہاں مرجاتے ہیں ان میں روحانیت باقی نہیں رہتی تو وہ الکی خدا ایسے سامان