انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 319

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۱۹ سورة يوسف اجر بھی انہیں ملے گا۔خدائے رحمن کی طرف سے۔( خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۶۵ تا ۴۷۲) آیت ۲۲ وَ قَالَ الَّذِي اشْتَريهُ مِنْ مِصْرَ لِاِمَرَاتِهِ اكْرِمِي مَثْوَهُ عَسَى أَنْ تَنْفَعَنَا اَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَكَذلِكَ مَكَنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ وَ لِنُعَلِمَة مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ وَاللهُ فَغَالِبٌ عَلَى اَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ رمضان کے ان آخری دنوں میں جن میں ہم اعتکاف بیٹھتے ہیں ایک وہ رات بھی آتی ہے جو لیلۃ القدر کے نام سے موسوم ہے۔لیلۃ القدر کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ رات جس میں اگر انسان چاہے اور پھر اس کا رب فضل کرے تو وہ اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر کو اپنے رب سے بدلوا سکتا ہے یعنی لیلۃ القدر وہ رات ہے جس میں تقدیریں بھی بدل سکتی ہیں لیکن اکثر تقدیریں جو متضرعانہ دعا کے نتیجہ میں بدل دی جاتی ہیں ہمارے علم میں نہیں آسکتیں۔مثلاً ایک دفعہ ہماری موٹر کا ایک حادثہ ہو گیا اور وہ حادثہ اس نوعیت کا تھا کہ اگر ایک منٹ پہلے یا ایک منٹ بعد ہماری کار جائے حادثہ پر پہنچتی تو حادثہ پیش نہ آتا اور پھر یہ فضل بھی ہوا کہ جو شخص اس حادثہ کا بری طرح شکار ہوا تھا اسے خدا تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بچا لیا اس وقت میرے دل میں اپنے رب کے لئے بہت حمد پیدا ہوئی اور میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ ہزاروں آفتیں اور حوادث ہم سے ٹال رہا ہے لیکن ہمیں ان کا علم بھی نہیں اور مجھے میری زندگی میں اللہ تعالیٰ نے یہ نظارہ دکھا دیا ہے تا مجھے یقین اور وثوق ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے کس قدر محبت رکھتا ہے۔پس جو تقدیر نظر آتی ہے اس پر بھی خدا تعالیٰ کی حمد کرنی چاہیے اور جو تقدیر نظر نہیں آتی اس پر بھی انسان کا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔اللہ تعالیٰ تقدیر بدل سکتا ہے اور بدلتا ہے ہاں جو تقدیر پردہ غیب میں ہے اور پردہ غیب میں ہی بدل دی جاتی ہے اس کے متعلق اکثر لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری دعا کو قبول فرما کر بہت سی دکھ دینے والی چیزوں کو بدل دیتا ہے اور ہمارے دل اس کی حمد سے