انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 318
۳۱۸ سورة يوسف تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث خدا تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی نہیں۔ان کے ساتھ پیار نہیں، تعلق نہیں، اگر ان کی جسمانی اور روحانی تکلیف دیکھ کر اس کا دل تڑپ نہیں اُٹھتا، اگر ایسے وقتوں میں اس کا دل گداز ہو کر اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنے لئے اور ان کے لئے عاجزانہ طور پر بخشش اور بھلائی اور خیر کا طالب نہیں تو کیا ایسا دل حفیظ ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ایسا دل تو حفیظ نہیں۔اے میرے مربی بھائیو دل کو گداز رکھو اس معنی میں جس معنی میں کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جن میں سے بعض کو میں نے اس وقت پڑھا ہے) حکم دیا گیا ہے۔جس دل میں رحمان خدا کی خشیت نہیں اور جس دل میں یہ خشیت ظاہر اور باطن میں نہیں وہ دل منیب نہیں وہ قلب سلیم نہیں اور جو دل منیب وسلیم نہیں۔تو جس سینہ میں وہ دھڑکتا ہے جن رگوں میں وہ خون کا دوران کر رہا ہے وہ سینہ اور وہ دل اور وہ شخص اور اس کی قوت عمل محافظ شریعت نہیں وہ مربی نہیں ، وہ خادم نہیں، وہ اپنے رب کا غلام نہیں ، عبد نہیں، وہ اس کی صفات کا مظہر نہیں۔وہ تو خا کی جسم کا ایک لوتھڑا ہے جیسا کہ سور کے جسم کا ایک لوتھڑا یا کتے کے جسم کا ایک لوتھڑا ان کا دل ہوتا ہے۔پس اپنے سینہ میں انسان کا منیب دل پیدا کرنے کی کوشش کرو اور حفیظ بننے کی کوشش کرو۔اپنا دل خدا کے حضور ہر وقت گداز رکھو۔تمہاری روح اس کے خوف سے، اس کی عظمت اور جلال کی خشیت سے پانی ہو کر اور پگھل کر اس کے حضور جھک جائے اور اپنی تمام عاجزی کے ساتھ انتہائی انکساری کے ساتھ تم اپنے بھائیوں کے سامنے ان کی ہمدردی اور غمخواری میں جھکے رہو۔تمہارا نفس بیچ میں سے غائب ہو جائے یا تم ہمیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے خادم نظر آؤ یا تم اسے اپنے خادم نظر آؤ۔اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے بندے اس کی صفات کا اظہار کرنے والے ہو جاؤ۔اس کی صفات کا مظہر بن جاؤ۔جب دل گداز ہو جائے جب عقلوں میں جلا پیدا ہو جائے تبھی تم اپنی ذمہ داریوں کو نبھا سکتے ہو۔تبھی تمہاری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے کہ جو توفیق دین کی خدمت کی اور عبادت کی اللہ تعالیٰ نے جو رحمن ہے حافظ مختار احمد صاحب کو دی وہی توفیق تمہیں بھی عطا کرے دین کو سینکڑوں نہیں ہزاروں ایسے حفیظ بننے والوں کی ضرورت ہے۔پس جنہوں نے ابھی تک خود کو پیش نہیں کیا وہ آگے بڑھیں اور جو اپنے آپ کو پیش کر چکے ہیں وہ اپنے عمل سے آگے بڑھیں اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حفیظ بننے کی کوشش کریں تب رحمن خدا انہیں ان کے اعمال کا بہترین ثواب دے گا اور ان کی پاک اور گداز نیتوں کا