انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 302 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 302

۳۰۲ سورة هود تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث قرب کے کمال تک پہنچا دوں گا چونکہ تو نے ہمیں بدی کی طرف میلان بھی دیا ہے اور ہم کمزور انسان ہیں اس لئے ہم اس بدی پر اور اس شیطان پر اس وقت تک غلبہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تو ہماری مدد کو نہ آئے جب تک تیری طاقت کا سہارا ہمیں حاصل نہ ہو پس تو ہمیں سہارا دے تو ہماری مدد کو آتا کہ ہماری بشری کمزوریاں ڈھک جائیں اور ہم سے بدیاں سرزد نہ ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کثرت سے استغفار کیا کرو اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہاری مدد کو آؤں گا اور تمہاری بشری کمزوریوں کو ڈھانک دوں گا اور تمہاری ترقیات کی راہوں میں جو روکیں ہیں وہ دور ہو جا ئیں گی اور تمہاری فطرت اپنے بدی کے میلان کو بھول جائے گی اور دوسرا میلان جو روحانی رفعتوں کی طرف پرواز کرنے کا میلان ہے اس میں پوری توجہ سے منہمک ہو جائے گی تا وہ روحانی رفعتوں کی طرف پرواز کرے اور خدا تعالیٰ کے قرب کو پائے۔پس اس آیت میں قریب اور مجیب خدا سے ملانے کی ایک راہ استغفار بتائی گئی ہے۔دوسری راہ تو بہ کی بتائی گئی ہے جب بشری کمزوریاں دور ہو جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان اپنی طاقت سے نیکی کر سکتا ہے یا اپنے اعمال کے اچھے نتائج اپنے زور سے نکال سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم عاجزی اور انکساری کے ساتھ میری طرف رجوع کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف بھا گو۔جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے اور اسے پالینے کے لئے اس کی طرف بھا گو گے، اعمال صالحہ بجالانے کی کوشش کرو گے، دعاؤں میں منہمک رہو گے اور تمہارے سینے خدا تعالیٰ کے ذکر سے معمور رہیں گے تو جس تیزی کے ساتھ تم اس کی طرف بڑھ رہے ہو گے اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ وہ رجوع برحمت ہوگا۔پس استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع یہ دو باتیں اصولی طور پر ایسی ہیں جن کے نتیجہ میں خدائے قریب و مجیب کے ساتھ تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔تمام بدیوں سے رکنے کی طاقت استغفار سے ملتی ہے اور طاقت حاصل کرنے کے بعد ہر قسم کی نیکیاں بجالانے کی کوشش تو بہ کے اندر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزی اور انکساری کے ساتھ رجوع ہو یعنی انسان خود کو کچھ نہ سمجھے اور اس حقیقت پر علی وجہ البصیرت قائم ہو کہ خدا تعالیٰ سے طاقت حاصل کئے بغیر نہ میں نیک اعمال کر سکتا ہوں اور نہ اس کے فضل کے بغیر کسی ظاہری نیک عمل کا اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔عمل کی توفیق