انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 303 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 303

۳۰۳ سورة هود تغییر حضرت علیلة أسبح الثالث بھی اس کے فضل سے ملتی ہے اور عمل کا اچھا نتیجہ بھی اسی کے فضل سے نکلتا ہے۔پس فرمایا کہ اگر تم استغفار کا طریق اختیار کرو اور تو بہ کی راہ پر گامزن ہو جاؤ تو اس کے نتیجہ میں تم اپنی زندگیوں میں یہ محسوس کرو گے کہ تمہارا رب قريب مجیب ہے۔وہ محض قریب ہی نہیں کیونکہ قریب تو وہ ہر شے سے ہے بلکہ وہ مجیب بھی ہے۔در اصل خدا تعالیٰ کے قرب کے جلوے یا اس کا علم یا اس کی معرفت یا اس پر جو دلائل ہیں وہ اس لئے ہیں کہ انسان ان کے بعد خدائے مجیب کی تلاش کرے کیونکہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب تو ہر ایک کو حاصل ہے کوئی شے جو اس کی پیدا کردہ ہے ( اور کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی پیدا کردہ نہ ہو) وہ اس سے دور نہیں ہو سکتی اس لئے کہ وہ خالق ہے قیوم ہے اور رب ہے۔غرض ایک قسم کا قرب تو ہر شے کو حاصل ہے۔وہ ہر مخلوق (چاہے وہ انسان ہو یا غیر انسان ) کو حاصل ہے۔پھر انسانوں کے دو گروہ ہیں ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جنہیں قہر اور غضب کا قرب حاصل ہے اور یہ قرب ہمیں پسند نہیں۔ہم اس پر راضی نہیں جب ہم سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب تو حاصل ہوا مگر قہر اور اس کے غضب کے کوڑے کے ذریعہ سے تو ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔کس کی طبیعت چاہتی ہے کہ اسے اس قسم کا قرب حاصل ہو؟ دوسرا گروہ انسانوں کا وہ ہے جنہیں خدا تعالیٰ کی رحمت کا قرب ملتا ہے۔یہ رحمت کا قرب جب کسی انسان کو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے تو وہ اس پر نہ صرف قریب ہونے کے رنگ میں اپنی صفات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی وہ مجیب ہونے کے جلوے بھی ظاہر کرتا ہے۔انسان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں انسان کو اس کی ضرورتیں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے اور متضرعانہ دعاؤں کے نتیجہ میں عطا کی جاتی ہیں۔وہ جو کچھ مانگتا ہے اسے عطا کیا جاتا ہے۔جب تک انسان کا تعلق قریب اور مجیب رب کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک انسانی فطرت تسلی نہیں پاسکتی۔اس وقت تک انسان کو روحانی مسرتیں حاصل نہیں ہو سکتیں کیونکہ روحانی مسرتیں انسان کو اسی وقت حاصل ہوتی ہیں جب خدا کے قریب ہونے کے جلوے بھی ہوں اور مجیب ہونے کے جلوے بھی ہوں جب ی تعلق قائم ہو جاتا ہے تو انسان خدا تعالیٰ کو ہر غیر سے زیادہ قریب پاتا ہے۔وہ اسے ہر غیر سے زیادہ طاقتور اور محبت کرنے والا دیکھتا ہے۔غیر تو انسان کی نظر میں محض ایک لاشے ہو جاتا ہے کیونکہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے پاتا ہے تو وہ کون غیر ہے جو اس سے