انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 301

۳۰۱ سورة هود تغییر حضرت علیلة أسبح الثالث صفات کے دونوں پہلو اس کے سامنے آجائیں۔یعنی ایک قریب ہونے کا پہلو اور ایک مجیب ہونے کا پہلو۔اس فطرتی تقاضا کو اسلام پورا کر رہا ہے۔امتِ مسلمہ میں لاکھوں انسان ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے قریب اور مجیب ہونے کے جلوے اپنی زندگیوں میں دیکھے اور جان و دل سے وہ اس پر فدا ہو گئے۔اگر فطرت انسانی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کا تعلق زندہ خدا سے اس رنگ میں پیدا ہو جائے کہ وہ اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کے قریب اور مجیب ہونے کے زندہ جلوے دیکھتی رہے اس کے بغیر وہ تسلی نہیں پاسکتی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے لئے اسلام نے کونسی اصولی تعلیم دی ہے۔سو اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سی آیت میں جو میں نے پڑھی ہے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس خدا کے قریب ہونا چاہتے ہو جو قریب بھی ہے اور مجیب بھی ہے اور تم اس کا قرب، اس کی رحمت اور اس کی محبت کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو دو چیزوں کو اختیار کرو اور وہ دو چیزیں استغفار اور توبہ ہیں۔استغفار اس لئے کہ انسان ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔اس کو خدا تعالیٰ نے دو قسم کی طاقتیں عطا کی تھیں ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی۔اس کو اختیار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ تم کمال قرب کو بھی حاصل کر سکتے ہو کہ تم اپنی مرضی سے اور میری راہ میں قربانیاں دے کر اس راہ کو اختیار کرو جو میری طرف لاتی ہے اور یہ مرضی ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک دونوں چیزوں کا اختیار نہ ہو یعنی بدی کا بھی اختیار نہ ہو اور نیکی کا بھی اختیار نہ ہو۔یعنی انسان چاہے تو بدی کر سکے اور چاہے تو نیکی کر سکے۔بدی کی طاقت انسان کے اندر ایک فطرتی نقص پیدا کرتی ہے نفس امارہ غالب آ جاتا ہے اور کمزوریوں کو بالا دستی مل جاتی ہے اور ہوائے نفس کی طرف میلان طبع ہو جاتا ہے۔اس فطرتی کمزوری کو ڈھانپنے کے لئے استغفار ضروری ہے انسان اپنی ذات میں کامل نہیں لیکن وہ اپنے اس کمال تک پہنچ سکتا ہے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے اور اس کمال تک پہنچنے کے لئے اسے ایک کامل ذات سے طاقت اور علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔استغفار ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اپنے رب کے حضور جھکو اور اس بات کا اقرار کرو کہ اے خدا تو نے ہمیں اپنے قرب کی رفعتوں تک پہنچانے کیلئے دوسری مخلوق سے ممتاز کیا ہے اس معنی میں کہ تو نے ہم میں بدی کی طاقت بھی رکھ دی اور نیکی کی طاقت بھی رکھ دی اور کہا کہ اپنی مرضی سے نیکیوں کو اختیار کرو اور اپنی مرضی سے بدی کو چھوڑو۔اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں