انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 293 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 293

۲۹۳ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اور اعلان یہ کیا گیا ہے کہ اگر سینکڑوں ایسے اوامر اور احکام میں سے دو بھی نہیں تم پہنچاتے تو تم نے اپنی رسالت کی جو ذمہ داری تھی جو تمہارے پر ڈالی گئی (حملت ) وہ پوری نہیں کرو گے۔سورہ نور میں کہا۔فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُتِل ( النور : ۵۵) حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف اس کی ذمہ داری ہے جو اس کے ذمے لگایا گیا۔اور ذمہ داری کیا ہے؟ اسی آیت میں آگے کہا۔دو دو وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَلاغُ الْمُبِينُ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری یہ ہے الا البلاغ المبين که صرف بات کو کھول کر لوگوں تک پہنچادینا۔وحی کو لوگوں تک پہنچا دینا، اُمّی ہونے کے لحاظ سے اپنی طرف سے کچھ ملاوٹ نہیں کرنی۔ہو ہی نہیں سکتی آپ کی فطرت میں ہی نہیں یہ۔اسی چیز کو واضح کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسا سامان کیا کہ ایک واقعہ ہو گیا۔سورۃ یونس کی سولہویں آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اور جب انہیں ہماری روشن آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ اے محمد! انتِ بِقُرانِ غَيْرِ هَذَا اَوْ بَدِلْهُ (يونس:۱۲) کہ تو اس کے سوا یعنی جو وحی نازل ہورہی ہے قرآن کریم کی اس کے سوا کوئی اور قرآن لے آیا اس میں کچھ تغیر و تبدل کر دے۔تو کہہ دے یہ میرا کام نہیں ہے۔یہ اُٹھی بول رہے ہیں نا اب تو کہہ دے کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر و تبدل کروں۔بڑاز بر دست اعلان ہے آج کی دنیا کے لئے۔جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے وہ بھی یہی اعلان کرے گا کہ جو قرآن کریم میں آچکا اس میں چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی کسی انسان کا یا کہنے والا کہے گا میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس میں کوئی تغیر و تبدل کروں۔میرا یہ کام ہے سمعا و طَاعَةً میں قرآن کریم پڑھوں اور سنوں اور اس کے مطابق عمل کروں۔إنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا یوحی الی۔یہ اسی آیت کا ہے۔مجھ پر جو وحی کی جاتی ہے میں تو صرف اسی کی اتباع اور پیروی کرتا ہوں اس کے علاوہ ادھر ادھر کی نہیں۔آگے اعلان کیا یعنی ممکن نہیں لیکن جو شخص قرآن کریم کی وحی میں رد و بدل کرے کوئی تغیر کرنا چاہے اس کے لئے اس کو سمجھانے کے لئے ،اس کے لئے بطور انذار کے کہ پھر تمہیں عذاب عظیم ملے گا، یہ اعلان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کروایا جن کے لئے یہ ممکن ہی نہیں تھا۔جن کی حالت یہ تھی ان کی کیفیت تھی جو خدا تعالیٰ