انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 294
۲۹۴ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث نے مشاہدہ کی اور قرآن کریم میں بیان کی ناکہ یہ میرا کام نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تغیر و تبدل کروں۔اِن اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى ساتھ یہ اعلان کرا دیا۔انِي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ (الانعام: ۱۶) اگر میں قرآن کریم کی وحی کے خلاف کوئی بات کروں اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔آپ تو دوسروں کو جنت میں لے جانے والے ہیں لیکن دوسروں کے لئے ایسا ممکن تھا اس لئے یہ اعلان کروایا جیسا کہ آج کل دنیا کے مختلف حصوں میں اس قسم کی باتیں کی جاتی ہیں جو ہمارے کانوں میں پڑتی ہیں۔اور جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے ہیں، جو قرآن کریم کی وحی کو قول اور فعل سے سچا ثابت کرنے والے ہیں، اس پر عمل کرنے والے ہیں، جو یہ اعلان کرنے والے ہیں کہ ہم تو خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں ہم ایک ذرہ بھر بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے۔مثلاً پاکستان سے باہر کسی ملک میں ( نام نہیں میں لوں گا۔فتنہ پیدا ہوتا ہے ) ایک جگہ یہ فتویٰ دے دیا کہ شراب جو ہے وہ تو گرم ملک میں حرام کی گئی تھی بٹھنڈے ملکوں میں بے شک پی لیا کرو۔حالانکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہلوایا گیا تھا انِي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ حالانکہ شراب کے متعلق رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطن (المائدة: 91) کا اعلان کیا گیا تھا کہ ایک گند کی چیز ہے اور اس کا پینا شیطانی عمل ہے۔(خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۲۴۷ تا ۲۵۰) پس اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت اور اس کی خوشنودی اور اس کی محبت کو پانے کا ایک وسیلہ استقامت ہے۔یعنی جو رشتہ اس سے جوڑ اوہ کسی حالت میں قطع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس طور پر استقامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحی کی اتباع کرے گا اور شریعتِ اسلامیہ کی پابندی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے حق میں وہ فیصلہ کر دے گا جو اس نے انہیں بشارت کے رنگ میں پہلے بتا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورہ یونس میں فرماتا ہے۔وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الحكمين اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اور آپ کے طفیل انسان کی حقیقی بھلائی اور ابدی مسرت کے لئے قرآن کریم کی شکل میں نازل کی گئی ہے جو شخص اس کی اتباع کرتا ہے اور صبر کا نمونہ دکھاتا اور استقامت کے مقام کو مضبوطی سے پکڑتا ہے اس