انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 292
۲۹۲ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اور نفس میں جو مشاہدہ کیا، خدا تعالیٰ نے ،اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا اس کا اعلان کر دو۔قُلْ إِنَّمَا اتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَى مِنْ رَّبِّي (الاعراف: ۲۰۴) حکم تھا نا اتباع کرو۔اعلان کروادیا کہ میں نے اس حکم کی اطاعت کی۔میں جو میرے رب کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے، اس کی کامل اتباع کرنے والا ہوں۔اور اُسوہ کے متعلق کہا ھذا بَصَابِرُ مِنْ ربكم تمہارے لئے اس وحی میں بصائر ہیں یعنی بصیرت پیدا کرنے والے دلائل ہیں۔وھدی ہدایت کا سامان ہے، جس کے نتیجہ میں وَرَحْمَةُ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں لقوم يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۲۰۴) ان لوگوں پر، اس گروہ پر، اس جماعت پر جو اپنے ایمان پر پختہ طور پر قائم ہو جاتے ہیں۔تو حکم تھا اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ نے اعلان کروایا کہ آپ نے کامل اتباع کر لی اور اعلان دوسری جگہ کروا دیا۔اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (الاعراف: ۱۴۴) أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام : ۱۶۴) یہ تو آپ کی ذات ہوئی نا۔جو اُسوہ بنانا ہے اور آپ کی اتباع کرنی ہے اس کے متعلق روشنی پیدا کرنے کے لئے اُمت کے دل و دماغ میں حکم ہوا فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ( الحجر : ۹۵) جو وحی تیرے پر نازل ہورہی ہے(اوامر و نواہی کے سلسلہ میں۔یہ محاورہ ہے عربی کا ، ایک لفظ آ جاتا ہے )۔جس چیز کا تجھے حکم دیا جاتا ہے اضداغ کے معنی ہیں کھول دینا۔وہ جو پتھر پر لوہے کا ایک ہتھوڑا سا رکھ کے مارتے ہیں اور پتھر کو دوٹکڑے کر دیتے ہیں اس کے معنی بھی یہی ہیں۔اس کے معنی ہیں کھول دینا۔تو کھول کر بیان کرو۔جو وحی تم پر نازل ہوئی اسے کھول کر بیان کرو اپنے قول اور اپنے فعل کے ساتھ۔سورہ مائدہ میں کہا - يَايُّهَا الرَّسُولُ بَلِخَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رسالته (المائدة: ۶۸) اے رسول ! ( جو یہ اکٹھے ہیں دراصل الرّسول النَّبِي ، الأمى اور اُمّی میں آجاتا ہے محمد بلیغ کے معنی مفردات نے یہ کئے ہیں اسی آیت کے نیچے۔آئی إِن لَّمْ تُبَلِّغُ هَذَا جو وحی نازل ہوئی ہے وہ کلیتاً تم وضاحت سے بیان نہ کر دو، پہنچانہ دو آ گے۔اَوْ شَيْأً مِنَا مُحَملت یا اپنی ذمہ داری کے تھوڑے سے حصے میں بھی اگر کوتاہی کرو تكُنْ فِي حُكْمِ مَنْ لَّمْ يُبْلِّغُ شَيْأُ مِنْ رسالته تو اس پر حکم یہ ہوگا کہ کوئی چیز بھی نہیں پہنچائی۔یعنی پوری کی پوری وحی نے جو اوامر ونواہی نوع انسانی کی ضرورتوں کے لئے بیان کئے ہیں ایک ایک کر کے سارے جو ہیں وہ پہنچانا بنی نوع انسان کو یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے۔