انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 282 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 282

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۸۲ سورة يونس ہی ان ساری چیزوں کو۔اس ساری دولت کو اس سارے مال کو پیدا کیا تھا ان کے لئے۔اس زندگی کے لئے لیکن جو ذکر ان آیات میں میں نے کیا ہے جو تم مجھ سے حاصل کر سکتے ہو۔اصل خوشی انسانی زندگی کی اس پر ہے۔جو مال و دولت وہ جمع کر رہے ہیں اس پر نہیں ہے۔هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ یہ بے شمار گنازیادہ بھلائی اور خوشحالی کا موجب ہے خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کے پیار کو حاصل کرنا۔( خطبات ناصر جلد نهم صفحه ۱۸۵۱۷۹) آیت ۱۰۰ وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمُ جَمِيعًا افانت تكره النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَأمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا اگر جبر کرنا ہوتا اگر جبر کو جائز رکھنا ہوتا تو انسان پر کیوں چھوڑا جاتا جبر، خدا تعالیٰ خود جبر کرتا۔آفانْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (یونس: ۱۰۰) اور اگر اللہ تعالیٰ ہدایت کے معاملہ میں اپنی ہی مشیت کو نافذ کرتا تو جس قدر لوگ زمین پر موجود ہیں وہ سب کے سب ایمان لے آتے۔پس جب خدا تعالیٰ مجبور نہیں کرتا تو کیا تو لوگوں کو ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں ) مجبور کرے گا وہ مومن بن جائیں یعنی جن کے دلوں میں حق سے اتنی کراہت جو کفر کے لئے اس قدر شرح صدر رکھتے ہیں وہ زبر دستی تو ان کے دل نہیں بدلے جاسکتے نہ مَنْ شَرَحَ بالكُفْرِ صَدرًا کی جو کیفیت ہے وہ دور کی جاسکتی ہے۔نہ یہ جبراً اکراہ سے کراہت دور نہیں کی جاسکتی۔اس کو دور کرنے کے لئے بینات اور دلائل ہیں جو خدا تعالیٰ نے بڑی کثرت کے ساتھ اسلام کے حق میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے۔دلائل قرآنی جو ہیں وہ اتنی وسعت ہے ان میں کہ قیامت تک خدا تعالیٰ کے اس کلام سے ایک کے بعد دوسرا، ایک کے بعد دوسرا، روشن ستارہ نکلتا چلا آتا ہے انسان کی ہدایت کے لئے۔اور علوم کے میدانوں میں عقلی علوم کے میدانوں میں روحانی علوم کے میدانوں میں ایک روشنی جو ہے وہ پیدا ہوتی چلی جارہی ہے اور قرآن کریم کی ہرنئی تفسیر جو ہر نئے زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ثابت کرنے والی اور آیت کی شان کو قائم رکھنے والی ہے اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اور آسمانی نشانات جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دنیا پر ظاہر ہوئے اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک ممتد ہے اور خدا تعالیٰ کے نیک بندے