انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 281
۲۸۱ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث تو بنیادی اس وقت میں نے ایک بات کی کہ ہدایت حصول مقصدِ حیات کی کوشش میں کامیابی کی را ہیں ہم پر کھولتی ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے۔رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ۔هُدًى وَرَحْمَةٌ بعض جگہ آ گیا۔یہاں بیان کر دیا یہ ہر جگہ میں چلے گا۔شرط ہے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کہا اسے کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ (الصفت : ۱۰۳) میں نے بتایا تھا یہیں کسی خطبہ میں کہ یہ اسلام کی روح ہے۔جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے وہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فارسی کلام میں ایک بڑا عجیب شعر کہا ہے آپ نے فرمایا ہے۔خدا کا پیار حاصل کرنا کوئی مشکل تو نہیں ہے۔وہ جان مانگتا ہے، جان دے دو۔خدا کا پیار مل جائے گا۔یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کا حصول اتنی عظمت رکھتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں جان دینا بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَیءٍ ہر چیز کو میری رحمت نے احاطہ کیا ہوا ہے۔فَسَاكُتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ (الاعراف: ۱۵۷) اور جو میری پناہ میں آجائیں گے اپنے اعمال اور اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں ان کے لئے میں اس رحمت کو لکھ دوں گا۔اور پانچویں چیز جو یہاں بیان ہوئی ہے بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِہ یہ سب کچھا اپنی جگہ درست لیکن سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ہوتا ہے یعنی اس کے فضل اور رحمت کو حاصل کرنا بھی اس کے فضل اور رحمت پر موقوف ہے۔اس لئے جہاں ہمیں اعمالِ صالحہ بجالانے کا حکم ہوا وہاں دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کو جذب کرنے کا بھی حکم ہوا تا کہ ہمارے حقیر اعمال جو ہیں وہ اس کی نگاہ میں مقبول ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَبِذلِكَ فَلْيَفْرَحُوا انسانی زندگی کی خوشیاں جو ہیں وہ اس بات پر موقوف ہیں۔ایک نئی بات ہے یہاں ہمیں جوش دلانے کے لئے کہ جو مال و دولت وہ دنیا جمع کر رہی ہے اور بڑا جمع کر لیا کوئی شک نہیں یعنی بے شمار کہا جاسکتا ہے ان کا مال و دولت۔بڑی ترقی کی۔سائنس میں علم میں۔ستاروں تک پہنچ گئے۔زمین کے ذخائر باہر نکال لئے۔وہ ہزاروں سال سے جو پٹرول زمین کی گہرائیوں میں چھپا تھا۔سو یا ہوا آرام کر رہا تھا اس کو جا کے جھنجھوڑا، ہلایا، بیدار کیا باہر نکال لیا چھلانگیں مارتا ہوا وہ سوراخوں سے باہر آ گیا اور پیسے اس سے کمائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے