انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 283 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 283

۲۸۳ سورة يونس تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اُمت محمدیہ میں ایک ایک وقت میں بعض دفعہ لاکھوں کی تعداد میں مختلف خطوں میں پیدا ہوئے جنہوں نے خدا تعالیٰ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کی صداقت اور شان کو ظاہر کرنے کے لئے معجزات دکھائے انسان کو۔اور یہ سلسلہ جو ہے وہ میں نے جیسا کہ بتایا قیامت تک ممتد ہے لیکن اس قدر دلائل سننے کے بعد اس قدر نشانات دیکھنے کے بعد بھی جس کا دل حق سے کراہت رکھتا اور جس کا سینہ بشاشت سے کفر کو قبول کرتا ہے اس پر جبر کر کے تو نہیں منوایا جا سکتا۔(خطابات ناصر جلد هشتم صفحه ۱۲۱،۱۲۰) b آیت ۱۰۱ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ ۖ وَيَجْعَلُ الرّجُسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ پس اگر کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حقیقی مربی بنا ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کی روشنی سے اپنے لئے کور فراست اور عقل کی روشنی حاصل کرے اور قرآن کریم سے انتہائی محبت کرے، وہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا ہو۔قرآن کریم کو غور اور تدبر سے پڑھنے والا ہو۔قرآن کریم سیکھنے کے لئے دعائیں کرنے والا ہو اور قرآن کریم کو سکھانے کے لئے بھی دعائیں کرنے والا ہوتا کہ دنیا اپنی کم عقلی کی وجہ سے اور اپنی اس عقل کے نتیجہ میں جس میں اندھیروں کی آمیزش ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے غضب کو مول لینے والی نہ ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ یعنی جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اپنی عقل کو اس نور کی روشنی کی تاثیر سے متاثر نہیں کرتے جو قرآن کریم کے ذریعہ نازل کی گئی ہے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہو جاتا ہے۔غرض ایک مربی نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانا ہے اور دنیا کو بھی۔بنی نوع انسان کو بھی اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ وہ اس نور سے وافر حصہ لینے کی کوشش کرے جو قرآن کریم عقل کو دیتا ہے اور دعاؤں میں مشغول رہے۔وہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعامانگتا ہے کہ اسے بھی اور دنیا کو بھی اپنی کم عقلی اور اندھیروں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا غضب نہ ملے بلکہ اللہ تعالیٰ اسے بھی عقل دے اور قرآنی انوار عطا کرے اور دنیا کو بھی سمجھ دے اور اسے قرآنی انوار دیکھنے کی توفیق عطا کرے تاکہ وہ اس کے غضب کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے ہوں۔