انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 253
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۲۵۳ سورة التوبة آیت ۱۲۹٬۱۲۸ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر آیا ہے۔تمہارا تکلیف میں پڑنا اسے شاق گذرتا ہے اور وہ تمہارے لئے خیر کا بہت بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور بہت کرم کرنے والا ہے۔پس اگر وہ پھر جائیں تو تو کہہ دے کہ اللہ میرے لئے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں اس پر توکل کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء جو بنی نوع انسان کی طرف بھیجے گئے ہیں وہ خاندانی لحاظ سے بھی اور اپنے خلق کے لحاظ سے بھی ہر دو جہان کے لئے رحمت ہیں۔ہر دو جہان کے لئے اس طرح کہ دوسرے جہان کی تمام نعماء کا تعلق پہلے جہان کے مقبول اعمال سے ہے۔پس آپ پہلے جہان کے لئے اور دوسرے جہان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رَحْمَةٌ لِلعالمین ہیں اور آپ صفت رحمن کے مظہر ہیں جس کی طرف ان دو آیات میں سے پہلی آیت کے دو لفظ عزیز اور حریص اشارہ کر رہے ہیں اور مومنوں کے لئے آپ رحیم ہیں۔پس ایک عظیم شخصیت، ایک عظیم رسول ، ایک عظیم صاحب اخلاق ، صاحب خلق عظیم ، ایک عظیم انسان، اور انسانوں سے عظیم محبت کرنے والا تمہاری طرف آیا ہے۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ وہ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتا۔مخلوق کی تکلیف اسے سخت گراں گذرتی ہے اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ اے انسانو! تمہیں بڑے بڑے منافع پہنچیں۔حَرِيضٌ عَلَيْكُمْ اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ عظیم رسول، خاتم الانبیاء، جو تعلیم لے کر آیا ہے وہ مخلوق کے ہر حصہ کے لئے رحمت ہے۔وہ عالمین کے لئے رحمت ہے۔وہ رحمت ہے اشجار کے لئے بھی اور پتھروں کے لئے بھی اور پانی کے لئے بھی اور معدنیات کے لئے بھی اور حیوانات کے لئے بھی وغیرہ وغیرہ۔انسان کے علاوہ جو بھی مخلوق ہمیں اس دنیا میں نظر آتی ہے ان کے حقوق بھی اسلامی تعلیم نے بتائے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کی ہے۔اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ ہر چیز کا کیا حق ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ اسے ملنا