انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 252 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 252

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۲ سورة التوبة ہے زیادہ اچھا ہے یاوہ جو اس کی بنیاد ایک پھسلنے والے کنارے پر رکھتا ہے جو گر رہا ہوتا ہے پھر وہ کنارہ اس عمارت سمیت جہنم کی آگ میں گر جاتا ہے اور اللہ ظالم قوم کو کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر پر زور دے کر کہ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے مسجد وہی ہے جس کی بنیاد تقوی اللہ اور رضائے الہی پر ہو مساجد کے کسٹوڈینز پر دوا ہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں :۔اول۔یہ کہ وہ اسے پاک صاف اور مطہر رکھیں اس میں پانی مہیا کریں اور ایسی تمام دیگر ضروریات بہم پہنچا ئیں جن کا موجود ہونا عبادات بجالانے کے لئے ضروری ہو۔دوم۔یہ کہ وہ مساجد میں ایسا ماحول پیدا کریں کہ جو لوگ ان میں عبادت کے لئے آئیں ان کا زندہ تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہونے میں مدد ملے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو قسم کی مساجد کا ذکر کر کے ان کے درمیان پائے جانے والے امتیاز کو واضح فرمایا ہے چنانچہ اس آیت کی رُو سے جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر ہو اور وہ لوگوں کا خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق پیدا کرنے والی ہو وہ حقیقی مسجد ہے برخلاف اس کے وہ مسجد جس کی بنیاد ظلم کی راہ سے لوگوں کو ایکسپلائٹ (Exploit) کرنے پر ہو اور بناء بریں تقوی اللہ سے یکسر خالی ہو وہ حقیقی مسجد نہیں ہے اُس کے بنانے والوں کی اور اُس کے نگرانوں کی نیت خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا نہیں اس لئے ایسی مسجد اور اُس کے ایسے نگرانوں کا انجام فانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ بتایا جو اللہ کے فرمانبردار اور اطاعت گزار بندے ہیں وہی سچے مسلمان ہیں خدا تعالیٰ خود ان کی راہنمائی کرتا ہے اور انہیں اپنے افضال وانعامات کا مورد بناتا چلا جاتا ہے۔انہیں ان افضال وانعامات کا مورد بنانے میں مسجد کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔حقیقی مسجد ایک عظیم نشان سمبل (Symbol) کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک پیغام کی حامل ہوتی ہے سو ہماری یہ مسجد ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ سب لوگ خدا کی نگاہ میں برابر ہیں اور سب اس کے فرمانبردار اور عبادت گزار بندے بن کر اُس سے زندہ تعلق قائم کر سکتے ہیں اور یہ کہ انہیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے اور ایک دوسرے کی بے لوث خدمت ان کا طتر کا امتیاز ہونا چاہیے۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۲۱،۵۲۰)