انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 254

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۵۴ سورة التوبة چاہیے۔اصولی طور پر یہ بتایا کہ ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے اس لئے کسی چیز کو بھی ضائع نہیں کرنا یہاں تک کہ کھانے کے ایک لقمے کو بھی ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔یہ بڑی حسین تعلیم ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی رکابی میں اتنا ہی ڈالو جتنا تم کھا سکو۔اس کے برعکس شیطانی وساوس انسان کو دوسری انتہا تک لے گئے۔چنانچہ میں نے بعض جگہ پڑھا ہے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ کے لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ جو ان کی رکابیوں میں بچ جاتا ہے وہ دنیا کی بڑی بڑی قوموں کو سیر کرنے والا اور کفایت کرنے والا ہے یعنی وہ اتنا ضیاع بھی کرتے ہیں اور پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔مگر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی ہے۔اس کی فلاح اور بہبود کے لئے پیدا کی ہے، اسے نفع پہنچانے کے لئے پیدا کی ہے، اس لئے کوئی چیز بھی اور کسی چیز کا کوئی ذرہ بھی ضائع نہیں کرنا۔مثلاً اسلام نے حلال پرندوں کا شکار کرنے کی اور ان کی جان لینے کی اجازت دی ہے لیکن کہا کہ جتنی ضرورت ہو اتنا شکار کرو یہ نہیں کہ ضرورت دس کی ہے لیکن سو مارو اور نوے پھینک دو اور دس کو استعمال کرو۔اگر کوئی ایسا شخص ہے جو سو مارتا ہے اور دس گھر میں استعمال کرتا ہے اور نوے اپنے دوستوں واقفوں اور ہمسایوں وغیرہ میں تقسیم کر دیتا ہے تو وہ ضرورت انسانی کو پورا کرتا ہے لیکن اسلامی تعلیم نے کسی چیز کو ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صفت رحمانیت کی مظہر ہے جو ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔پھر حیوان ہیں جو انسان کی خدمت کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔حیوانات میں سے بعض ایسے ہیں جو زندہ رہ کر انسان کی خدمت کرتے ہیں ان کو مارنے کی اجازت نہیں اور بعض حیوانات ایسے ہیں جن کو مار کر انسان کی خدمت لی جاتی ہے۔مثلاً وہ کھانے کے کام آتے ہیں یا مثلاً ادویہ میں کام آتے ہیں یا بعض اور کاموں میں انسان حیوانوں کو استعمال کرتا ہے۔اس صورت میں ان کی جان لینے کی اجازت ہے۔پس بوقت ضرورت انسانی خدمت کے لئے جان لینے کی اجازت ہے لیکن اس جانور کے متعلق بھی کہ جسے ذبح کر کے کھانے کی اجازت ہے یہ اجازت نہیں کہ اسے دکھ دیا جائے اور تکلیف پہنچائی جاۓ۔پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم حیوانات کے لئے بھی رحمت ہیں۔اس لئے کہ جس غرض کے لئے ان