انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 218

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۱۸ سورة التوبة کے جذبات کا خیال نہ رکھتے ہوئے مکہ چھوڑا اور مدینے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں زندگی گزارنے کے لئے چلے گئے۔امام راغب مفردات میں لکھتے ہیں کہ ہجرت کے معنی - هجررَانُ الشَّهَوَاتِ انہوں نے یہاں تین معنے کئے ہیں۔اہوائے نفس جو ہیں۔شہوات جو ہیں اُن کو ترک کرنا۔اصل اس کے معنی ترک کے ہیں نا۔تو جوا ہوائے نفس ہیں۔شہوات ہیں۔اُن کو چھوڑ دینا ترک کرنا۔دوسرے جو اخلاق ذمیمہ ہیں۔بُرے اخلاق گندے اخلاق ، خدا سے دور لے جانے والے اخلاق معاشرہ میں فساد پیدا کرنے والے اخلاق، اُن اخلاق ذمیمہ کو ترک کرنا۔وہ کہتے ہیں کہ ہجرت میں یہ بھی شامل ہے۔اور تیسرے معنی ہیں کہ خطا یا کو ترک کر دینا۔یعنی ہر وہ چیز جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے، اُسے چھوڑ دینا۔اب قرآن کریم کی تعلیم اوامر ونواہی پر مشتمل ہے۔تمام نواہی یعنی یہ جو کہا گیا ہے کہ یہ نہ کر، یہ نہ کر، یہ نہ کر ان کا تعلق انہی تین چیزوں سے ہے۔اہوائے نفس کو چھوڑنے کے ساتھ۔اخلاق ذمیمہ کو ترک کرنے کے ساتھ اور خطا یا جنہیں کہتے ہیں غلطیاں اور گناہ اور معصیت کے کام، ان سے عملی بیزاری اور اُن کو چھوڑ دینے کے ساتھ۔اور جهَدُوا مجاہدہ کے بنیادی معنی ہیں مقدور بھر کوشش کرنا۔اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرنا، پورا زور لگا دینا۔اس کے اصطلاحی معنی ، اسلامی اصطلاح میں اس کے پھر آگے تین معنی بنتے ہیں۔ایک اُس دشمن کے خلاف انتہائی کوشش جو زور کے ساتھ اور طاقت کے ساتھ اور ہتھیاروں کے ساتھ اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اور جیسے ایک اصطلاحی چھوٹا سا ایک محاورہ ہمارا ہے۔مُجَاهَدَةُ العَدُو اسلام کا جو دشمن ہے اس کی تمام ایسی کارروائیاں کہ جو اسلام دشمنی پر مبنی ہیں اُن کا پورے زور کے ساتھ مقدور بھر کوشش کر کے مقابلہ کرنا اور انہیں نا کام کرنا۔اس کے دوسرے معنی شیطان کے خلاف مقدور بھر کوشش کرنا۔مُجَاهَدَةُ الشَّيطن - شیطان بالواسطہ یہ جو انسان انسان کا دشمن بنتا ہے مُجَاهَدَةُ العَدُو کے پیچھے بھی شیطانی قوتیں ، وساوس حرکت کر رہے ہیں لیکن یہاں قرآن کریم کی تعلیم نور لے کے آئی۔مُجَاهَدَةُ الشَّيْطن کے معنے ہم یوں کریں گے کہ ظلمات کو اللہ ، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے ذریعے سے ٹور میں بدل دینا۔ظلمت کو مٹا کے ٹور آ جائے اور قرآن کریم کے تمام نواہی نے گند مٹا کر اوامر۔ہرا مر جو ہے وہ ٹور پیدا کرنے والا