انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 219
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۲۱۹ سورة التوبة ہے کیونکہ ہر امر کی حکم کی جو اطاعت ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو کھولنے والی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والے ٹور کی وارث بنانے والی ہیں اور مُجَاهَدَةُ النَّفْس کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو شیطان کے وار ہر انسان پر پڑتے ہیں اُن کا مقابلہ کرنا اور نا کام بنانا شیطان کو۔شیطان نے آدم کی پیدائش کے وقت خدا تعالیٰ سے یہ اجازت لی تھی تمثیلی زبان میں کہ میں تیرے بندوں کو جنہیں تو نے اپنا عبد بنانے کے لئے پیدا کیا ہے یعنی وہ تیرے بندے بن جائیں تیرے ہو جا ئیں مجھ میں فانی ہو کر ایک نئی زندگی پانے والے ہوں۔میں اُن کو دوزخ کی طرف لے جانے کی انتہائی کوشش کرتا رہوں گا۔قرآن کریم نے اعلان کیا جو تیرے بندے ہوں گے حقیقتاً اُن پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ہاں جو خود میرے بندے نہ بنا چاہئیں اور اہوائے نفس اور شہوات نفس کے پیچھے چلنے کی کوشش کریں وہ تیرے گروہ میں شامل ہو جائیں گے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مُجَاهَدَةُ النَّفْسِ کے متعلق۔جَاهِدُوا أَهْوَاءَ كُمُہر شخص کا، ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اہوائے نفس کے خلاف انتہائی کوشش کرے اور اُس نفس کو جو شیطان کی طرف گھسیٹنے والا ہے اُس کی ہیئت کذائی بدل کر ایسا بنا دے جو اللہ تعالیٰ کی طرف حرکت کرنے والا ہو اور اُس کے فضلوں کو پانے والا ہو۔مفردات راغب میں یہ بھی ہے کہ مجاہدہ ہاتھ سے ہو جو کوشش بھی ہوا سے بھی مجاہدہ کہتے ہیں اور جو زبان سے ہو اُسے بھی مجاہدہ کہتے ہیں۔ہاتھ سے کوشش محاورہ ہے یعنی جو مادی طریقے پر کوشش کی جائے مثلاً انسان کا نفس ہے جو اپنے خلاف مجاہدہ کرتا ہے وہ ہاتھ کی کوشش ہے۔انسان اپنے آپ کو وعظ نہیں کیا کرتا تقریر کر کے۔وہ دوسروں کو سناتا ہے۔کبھی خلوص نیت کے ساتھ کبھی بد نیتی کے ساتھ خدا کے ساتھ ایسے لوگوں کا معاملہ۔لیکن ہر وہ کوشش جو زبان کی نہیں وہ کوشش ہاتھ کی کوشش کے اصطلاحی معنے میں شامل ہیں۔چونکہ اسلام کی ساری تعلیم ان بنیادوں پر کھڑی ہوئی اور ان ستونوں کے اوپر وہ بلند ہوئی اس لئے جماعت احمدیہ کے بارے کام جو دینی اغراض کو پورے کرنے والے ہیں اُن کا تعلق خالص ایمان کے ساتھ ہے۔جو ہجرت کے معنے ہیں هِجْرَانُ الشَّهَوَاتِ اور اخلاق ذمیمہ سے پر ہیز اور خطایا سے بچنا اس کے ساتھ ہے اور مجاہدہ اپنی جو شکلیں اختیار کرتا ہے یعنی مقدور بھر کوشش پوری سعی اپنی، پورا زور