انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 217
۲۱۷ سورة التوبة تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے دی تھی اس سے زیادہ قربانی ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے قیام اور دنیا کے دلوں میں توحید کو گاڑنے کے لئے اُمت محمدیہ سے لینی ہے۔صرف ایک نسل نے یہ قربانی نہیں دینی بلکہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے اور ایک محدود زمانہ تک نہیں بلکہ رہتی دنیا یعنی قیامت تک قربانیاں دیتے چلے جانا ہے قیامت تک کا میں اس لئے کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے رحمةٌ لِلعالمین بن کر آئے ہیں۔خطبات ناصر جلد دهم صفحه ۱۹۱ تا ۱۹۵) سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِم جو لوگ ایمان لائے۔جو لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ہجرت کی اور وہ لوگ جنہوں نے جہاد کیا اپنے نفوس کے ساتھ بھی اور اپنے اموال کے ساتھ بھی۔انہیں بہت اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں بشارت دیتا ہے اپنی رضا کی جو اس زندگی سے شروع ہوتی ہے اور خاتمہ بالخیر ہو تو بغیر تسلسل ٹوٹے ہمیشہ کے لئے ساتھ رہتی ہے اور اُن جنتوں کی جن میں سے ایک، ایک اور شکل میں اس زندگی سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری ایک اور شکل میں مرنے کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔قرآن کریم کی تمام تعلیم اس کے احکام اور او امر و نواہی ، وہ ان باتوں سے جو یہاں بیان ہوئی ہیں تعلق رکھتے ہیں یعنی ایمان ، ہجرت کرنا اور مجاہدہ کرنا خدا کی راہ میں۔ایمان کا تعلق دل سے ہے اور اس کے معنی میں پھر دل کا جو پختہ عقیدہ ہے اس کا اظہار بھی ہو ساتھ اور جو دل کا پختہ عقیدہ ہے اس کے مطابق اعمال بھی ہوں۔یعنی جوارح بھی لکھنے والوں نے لکھ دیا۔تو زبان سے اظہار کرنا اور دل میں ایک پختہ عقیدہ رکھنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا یہ تین چیزیں ایمان کے اندر ان کی یا هَاجَرُوا والی شکل بنتی ہے یا جهَدُوا والی شکل بنتی ہے اور تمام اسلامی تعلیم اور عقائد احکام و اوامر ان ستونوں کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں۔مفردات راغب میں ہے کہ ہجرت کے معنے ہیں ترک مکان۔اپنا ایک مکان ، رہائش، جگہ کو چھوڑنا۔انہوں نے کہا دار الکفر سے دار الایمان کی طرف۔یہ اسلامی اصطلاح ہے۔مہاجرین وہ بنے جنہوں نے مکہ کے ماحول کو ، مکہ کی جائیدادوں کو ، مکہ کے مکانوں کو ، مکہ کے رشتہ داروں کو جو ایمان نہیں لائے تھے چھوڑ دیا اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے سارے تعلقات قطع کر کے اور کسی قسم