انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 186 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 186

۱۸۶ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اکٹھے بولنے لگیں غرض مرد اور عورت ہر دو کو یہ حکم ہے کہ دوسرے کی بات کو خاموشی سے سنو ، ہر وقت بولنا، زیادہ بولنا، بے موقع بولنا اور بلا وجہ بولنا اسلام پسند نہیں کرتا اس نے ہزار قسم کی پابندیاں اس پر لگائی ہیں۔پھر ہمارے اندر نفرت اور رغبت کا جذبہ پایا جاتا ہے یہ ایک طبعی چیز ہے لیکن اس چیز کو بھی اندھیروں میں بہکتا ہوا انہیں چھوڑا گیا بلکہ قرآن کریم نے ایک نور پیدا کیا اور کہا کہ کسی شے سے اس وجہ سے ان حالات میں اور اس حد تک تم نفرت کر سکتے ہو پھر اس نے یہ کہا ہے کہ بدی سے نفرت کرو لیکن یہ نہیں کہا کہ تم بد سے نفرت کرو یہ ایک بڑا باریک فرق اور بار یک امتیاز ہے جو قرآن کریم نے پیدا کیا ہے پھر رغبت ہے ہمیں حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے محبت دوستی اور اخوت کے تعلقات کو ہم نے قائم رکھنا ہے۔پھر غصہ ہے غصہ انسان میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک طبعی امر ہے بعض جگہ اس کا نکالنا ضروری ہے اور بعض جگہ اس کا دبا ناضروری ہے جس طرح ایک گھوڑے کو لگام دی جاتی ہے اور وہ لگام اس کے سوار کے ہاتھ میں ہوتی ہے اسی طرح غصہ بھی انسان کے قابو میں ہونا چاہئے اور اس کا اظہار صرف اس وقت ہونا چاہئے اس کا اظہار صرف اس رنگ میں ہونا چاہئے اس کا اظہار صرف اس حد تک ہونا چاہئے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے اور جہاں اس نے کہا ہے کہ غصہ کو روکو وہاں ہمیں کاظمین بن جانا چاہیئے ہمیں غصہ کو روکنا چاہیئے گویا اللہ تعالیٰ نے ایک نور یہاں بھی عطا کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہاں غصہ کا اظہار کرنا ہے اور یہاں اظہار نہیں کرنا اور یہ نور قرآن کریم کی ہدایت ہے اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو انسان کو عقل اور فراست عطا کرتی ہیں۔پھر غصہ کے مقابلہ میں خوشنودی ہے یہ بھی ہزار پابندیوں کے اندر ہے غرض ہمارے معاشرہ اور معیشت کے ہر پہلو کے متعلق اسلام نے ہمیں تعلیم دی ہے اور ہر پہلو کے بعض حصوں کو ہمارے لئے منور کر دیا ہے تا کہ ہم انہیں اختیار کریں اور بعض پہلوؤں کو اس نے ظلمات میں چھوڑا ہے تا ہماری نظر بھی ان پر نہ پڑے اس نے ہمارے لئے ان پر اندھیرا کر دیا ہے اور یہ لازمی امر ہے کہ جو بات اندھیرے میں ہوگی وہ ہمیں نظر نہیں آئی گی ہماری توجہ اس کی طرف نہیں ہوگی اسلامی تعلیم میں تربیت یافتہ ذہن اس چیز کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا جو خدا اور اس کے رسول کو نا پسندیدہ ہو۔پھر عزم و ہمت ہے بڑے بڑے ہمت والے دنیا میں پیدا ہوئے مگر ان کی ساری ہمتیں دنیا ہی