انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 187 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 187

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۱۸۷ سورة الانفال میں صرف ہو گئیں انہوں نے فساد بپا کیا قتل و غارت کی راہوں کو اختیار کیا اور لعنتوں کا طوق اپنی گردن میں لئے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔انسان نے ان کو بھلا دیا یا اگر اس نے یا درکھا تو لعنت سے یادرکھا۔اس کے مقابلہ میں دین کے لئے بھی عزم اور ہمت کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے قرب کے مقامات کے حصول کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے بنی نوع سے ہمدردی اور خیر خواہی کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے اسلام کی ہدایات پر صبر اور استقامت سے قائم رہنے کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے۔غرض جہاں جہاں ایک مسلمان کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے قرآن کریم نے اس کی نشان دہی کر دی ہے اور جس غلط قسم کے عزم اور ہمت کے نتیجہ میں فساد پیدا کرنے سے اس نے ہمیں منع کر دیا ہے۔پھر توجہ اور دعا ہے قرآن کریم نے اس کے متعلق بھی ہمیں بڑے لطیف پیرایہ میں ہدایات دی ہیں لیکن لوگ ان ہدایتوں کو بھول جاتے ہیں اگر کوئی بات جو انہیں پسند ہو اور جس کے لئے انہوں نے دعا کی ہو وہ قبول نہ ہو یا کوئی چیز جو انہیں پسند ہو وہ انہیں نہ ملے تو ان کے دل میں شکوہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ان بے شمار نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی دعا کے انہیں عطا کی ہیں قرآن کریم کہتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اپنی زندگیوں کو گزار و دعا کے لئے بعض شرائط اس نے لگائی ہیں اس کے بعض طریق اس نے بتائے ہیں دعا کی حکمتیں اور فلسفہ اس نے ہمیں بتایا ہے جہاں اس نے یہ نہایت حسین اور انمول چیز ہمارے ہاتھ میں دی ہے وہاں اس نے ہمیں یہ بھی کہا ہے کہ خدا تعالیٰ خدا ہے نعوذ باللہ وہ تمہارا غلام نہیں جب وہ تمہاری بات مانتا ہے تو وہ تم پر احسان کرتا ہے اور جب وہ اپنی بات منواتا ہے تب بھی وہ تم پر احسان کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے تمہارے ساتھ دوستوں کا سا سلوک کیا ہے ورنہ کجا بندہ اور کجا خدا کا پیار اور دوستی۔وہ اپنے نیک اور مقبول بندوں کو یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری بات اس لئے نہیں مانتا کہ میں تم سے دشمنی کر رہا ہوں بلکہ وہ انہیں تسلی دینے کے لئے کہتا ہے کہ دنیا کی دوستیوں میں بھی تو تم یہی دیکھتے ہو کہ کبھی دوست تمہاری بات مانتا ہے اور کبھی وہ اپنی بات منواتا ہے اگر میں نے تم سے اپنی بات منوالی ہے تو تم یہ سمجھو کہ میں نے ایک دوست کا سا پیار تمہیں دیا میں نے تم سے دوستانہ سلوک کیا ہے یعنی میرا جو انکار ہے وہ بھی میری دشمنی اور غصہ کی علامت نہیں غرض یہ ایک ایسا لطیف اور وسیع مضمون ایک ایسا نور جس نے دعا اور توجہ کی دنیا کو منور کر دیا