انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 185 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 185

۱۸۵ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث قیامت تک امت محمدیہ میں قائم رہے گا“۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ ۲۲) غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ قرآن کریم میں بہت بڑی روحانی تاثیرات پائی جاتی ہیں اور تم اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق ڈھالو اور ان احکام کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزار و جو قرآن نے بتائے ہیں اس کے نتیجہ میں ایک طرف تو تمہاری عقل میں جلا پیدا ہو جائے گا اور دوسری طرف جتنا جتنا تقویٰ تم حاصل کرو گے جس قدر مقام قرب کو تم پا لو گے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے رموز تم پر کھولے گا اور تمہیں اپنا مقترب بنالے گاوہ ایک امتیازی نشان تمہیں دے گا یہ ممتاز مقام ایک مسلمان کی زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھتا ہے ایک مسلمان کی ہر حرکت اور سکون میں ہمیں ایک امتیاز نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر حرکت اور سکون کے متعلق ہماری راہ نمائی فرمائی ہے مثلاً آپ نماز کیلئے آرہے ہیں نماز کھڑی ہوگئی ہے اور آپ نے خیال کیا کہ پہلی رکعت آپ کو ملتی ہے یا نہیں اور آپ دوڑنا چاہتے ہیں اس وقت اسلام آپ کے کان میں یہ آواز دیتا ب الْوَقَارَ الْوَقَار تم اپنے وقار کا خیال رکھو یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو میں نے دی ہے ورنہ ہر حرکت جو ہم کرتے ہیں اس کے متعلق ہمیں ایک ہدایت دی گئی ہے اس کے متعلق ہمیں ایک نور عطا کیا گیا ہے اسی طرح ہمار ا سکون ہے یعنی حرکت کا نہ ہونا بعض دفعہ ہمیں حرکت نہیں کرنی ہوتی مثلاً مراقبہ ہے محاسبہ نفس ہے یہ گو ویسے بھی ہو سکتا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ انسان خالی الذہن ہو کر اور ہر قسم کے خیالات سے بچ کر تنہائی کے مقام پر جا کر ہی ظاہری سکون کی حالت میں ہوتا ہے اس کے اندر تو اپنی عاجزی اور خدا تعالیٰ کے غضب کے خوف کی وجہ سے اور اس کی محبت کے پالینے کے لئے ایک طوفان بپا ہوتا ہے لیکن دنیوی نقطہ نگاہ سے ہم اسے سکون کی حالت کہہ سکتے ہیں پھر انسان بولتا ہے بولنے یعنی نطلق کے متعلق اسلام نے ہمیں اتنی ہدایتیں دی ہیں کہ پہلی شریعتیں تو شاید اس کے ہزارویں حصہ تک بھی نہیں پہنچیں پھر ایک مسلمان جب خاموشی اختیار کرتا ہے یا جب اسے خاموشی اختیار کرنی چاہئے اس وقت وہ ہوائے نفس کے نتیجہ میں خاموشی اختیار نہیں کرتا بلکہ وہ اس لئے خاموش رہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ خاموش رہو مثلاً قرآن کریم کا درس ہو رہا ہے نماز ہورہی ہے تو خدا کہتا ہے کہ خاموش رہو مجلس میں لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے ایک شخص بات کر رہا ہو تو اسلام کہتا ہے کہ دوسرے سب لوگ اس کی بات نہیں یہ نہیں کہ ساری عورتیں اکٹھی بولنے لگیں یا سارے مرد