انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 146
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۱۴۶ سورة الاعراف ضیاع ہے۔اور ایک اسراف اس طور پر ہوتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی ناشکری کرتے ہوئے اغذیہ یعنی غذاؤں میں سے بعض کو اپنی غفلت اور نالائقی کی وجہ سے اور بے پرواہی کی وجہ سے ضائع کر دے اور تلف کر دے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی پلیٹ میں اتنا ہی سالن ڈالا کرو کہ ایک لقمے کا سالن بھی ضائع نہ ہو۔کھانے والی چیزوں میں میں نے جو سالن کی مثال لی ہے یہ غیر جاندار چیزوں پر بھی اطلاق پاتی ہے لیکن گائے کا گوشت ہے، اونٹ کا گوشت ہے، دُنبے کا گوشت ہے ان کا بھی سالن پکتا ہے۔پھر کہا کہ جنگلوں میں جو آزاد جانور رہتے ہیں تم محض شوقیہ ان کا شکار نہ کیا کرو کہ تمہیں ضرورت تو نہیں ، شکار کرو اور پھر پھینک دو اس سے منع کیا۔کہا کہ جتنے کی ضرورت ہے اتنا شکار کرو کیونکہ وہ پیدا ہی انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کئے گئے ہیں۔پھر جو پالے ہوئے جانور ہیں مرغیاں اور دوسری چیزیں ہیں ان کو دکھ دینے سے آپ نے بڑی سختی سے منع کیا۔ہر جاندار کے متعلق کہا کہ ان کی تکلیف کو دور کرنا ہے، جانداروں کے متعلق ، غیر انسان کے متعلق یہ تعلیم دی۔کتے اور بلی تک کے متعلق کہ دیا کہ ان کا خیال رکھنا بڑے ثواب کا کام ہے۔گھر کے پالتو جانوروں کے متعلق کہا کہ ذبح کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھو کہ ان کو تکلیف نہ ہو کم سے کم تکلیف میں ان کی جان نکلے کیونکہ اصل مقصد تو یہ ہے کہ انسان ان کو کھائے اسی لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے لیکن ان کو تکلیف پہنچا کر تو انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔غرض اس معنی میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ ہیں۔پھر انسان ہے، بنی نوع انسان ان میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا تعلق کا فر سے بھی ہے اور اس کے جلوے کا فردیکھتا ہے اور اس کی رحمانیت کا تعلق مومن سے بھی ہے اور اس کے جلوے مومن دیکھتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کی حیثیت سے رحمانیت کے بھی مظہر کامل ہیں۔چنانچہ اسلامی تعلیم ایک غیر مومن کے جو ابھی اسلام نہیں لا یا حقوق کو قائم بھی کرتی ہے اور ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے کہ اس وقت کی مہذب دنیا کا مزدور اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدو جہد تو کر رہا ہے لیکن اسے اپنے حقوق کا علم نہیں نہیں جانتا میرا حق ہے کیا؟ یہ قرآنی ہدایت کا مجم صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے کہ آپ نے انسان کو بتایا کہ تیرا حق کیا ہے اور پھر تعلیم دی کہ یہ حقوق بہر حال ادا ہونے چاہئیں لیکن انسان صرف مزدور کی