انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 145

۱۴۵ سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث بنیادی طور پر قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ہر چیز کا یہ حق ہے کہ جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے اس کا استعمال نہ کیا جائے۔ہر مخلوق کا یہ حق اسلام نے قائم کیا ہے اور اسلامی تعلیم نے اس کی حفاظت کی ہے۔مثلاً فرما یالا تسرفوا (الاعراف:۳۲) اسراف نہ کرو۔اسراف کے معنی ہی خدا تعالیٰ کے قانون کی حدود سے تجاوز کرنا ہیں۔پس اس کے یہی معنی بنتے ہیں کہ ہر چیز کے متعلق خدا تعالیٰ نے کچھ قانون بنائے ہیں ان کی پیدائش کی کوئی غرض بیان کی ہے۔اس کے خلاف تم نے اس کو استعمال نہیں کرنا۔انسان جب بہکتا ہے اور بسا اوقات بہکتا اس وقت زیادہ ہے جب وہ علم کے میدان میں اور تحقیق کے میدان میں کافی آگے نکل چکا ہو تو وہ دنیا کے لئے عذاب اور ہلاکت کے سامان پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ ایٹم کی طاقت کا غلط استعمال ہمیں بتا رہا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اشیاء کے لئے بھی رحمت ہیں کیونکہ آپ ایک ایسی تعلیم لے کر آئے جس نے انسان کو یہ بتایا کہ دیکھو اشیاء خاص غرض کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور ان اغراض کے لئے ہی ان کا استعمال ہونا چاہیے اور جو قوانین ان کو گورن (Govern) کرنے والے ہیں ان سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔اس کے بعد ہم جانداروں کو لیتے ہیں۔یہ ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس نے جانداروں کے حقوق بھی قائم کئے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کی ہے۔بعض جاندار ایسے ہیں کہ جن کی افادیت ان کی غذائیت میں نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ انسان ان کو کھائے۔مثلاً سور ہے یا درندے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے ، اسلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے ہمیں کہا کہ ایسے جاندار جن کی افادیت ان کے کھانے میں نہیں بلکہ اور چیزوں میں ہے تو جس غرض کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اس غرض کے لئے ان کو استعمال کرو۔یہ بڑا لمبا مضمون ہے سانپوں کے متعلق مکھیوں کے متعلق اسی طرح دیگر چیزوں کے متعلق بہت گفتگو کی جاسکتی ہے تھوڑی بہت میں بھی کر سکتا ہوں لیکن اس وقت میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔اسلامی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے قانون کو توڑنا نہیں، حدود سے تجاوز نہیں کرنا، اسراف نہیں کرنا۔اسی طرح جو چیزیں انسان کے کھانے کے لئے بنائیں ان کے متعلق بھی کہا کہ اسراف نہیں کرنا۔کھانے کے لحاظ سے اسراف کئی طور پر ہو سکتا ہے، جسم کی ضرورت سے زیادہ کھانا بھی اسراف ہے۔جسم کی ضرورت سے کم کھانا بھی منع ہے لیکن زیادہ کھانا اسراف اور