انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 111
سورة الاعراف تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث مسئلہ زیر بحث کا سمجھنا آسان ہو جائے اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین کسے کہتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا (الانبياء: ۳۳) وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَهَا بِاييرِ وَ إِنَّا لَمُوسِعُونَ (اللديت: ۴۸) وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً (النمل :٢١) آسمان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات بیان کی ہیں۔میں نے ان میں سے چند کو بعض خصوصیات کی وجہ سے لے لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ زمین وہ وجود ہے، وہ مخلوق ہے کہ جس کے گرد ہم نے آسمان کا ایک کمر بند باندھ رکھا ہے۔اس کا (جیسا کہ قرآن کریم کی مختلف آیات میں بیان ہوا ہے ) زمین پر بسنے والے انسانوں کو ایک فائدہ تو یہ ہے کہ دوسرے کرؤں سے ریڈیائی لہریں جو زمین کی طرف آ رہی ہیں وہ اگر زمین پر اپنی اصلی حالت میں پہنچ جائیں تو انسان کی ہلاکت کا موجب بن جائیں۔یہ آسمانی جو روک بن جاتی ہے اور وہ زمین تک پہنچنے نہیں پاتیں۔پھر شہاب ثاقب ہیں جو بڑی تیزی سے ہماری اس آسمانی جو میں داخل ہوتے ہیں اور اس کی کثافت کی وجہ سے ان میں آگ لگ جاتی ہے۔چھوٹے بچوں کے لئے تو ان میں ایک دلچپسی کا سامان ہوتا ہے اور اُن کے لئے اس میں بس ایک نظارہ ہوتا ہے کیونکہ ان کو تو حقیقت معلوم نہیں ہوتی لیکن ہمارے لئے اس لحاظ سے دلچسپی کا موجب ہے کہ اس میں ہم اللہ تعالیٰ کی علوّ شان کو جلوہ گر پاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم عاجز انسانوں پر کتنا بڑا رحم کیا ہے کہ اس نے اپنے فضل سے ان شہب کی یلغار سے ہمیں بچالیا اور ہماری حفاظت کے لئے آسمان بنا دیا پھر اس آسمان میں ہوا بھر دی اور اس کے بے شمار کام مقرر کر دیئے۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ جب بادل بنتے ہیں تو یہ ان کو اللہ تعالیٰ کی مشقیت اور حکم کے ماتحت اُڑا کر ادھر ادھر لے جاتی ہے اور پھر جہاں خدا تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے وہاں بارش برسنے لگتی ہے۔پھر ہوا ہمارے کانوں کے لئے بھی بہت ہی مفید اور ضروری چیز ہے۔ہمارے کان کام ہی نہ کرتے اور بالکل بے کار چیز ہوتے اگر صوتی لہریں آواز کو ان تک نہ پہنچا ئیں۔پس اگر ہوا نہ ہوتی اور اس میں صوتی لہروں کا انتظام نہ ہوتا تو ہمارے کانوں میں آواز ہی نہ پڑتی۔اسی طرح انسانی زندگی کی بقا کا ایک بڑا ذریعہ ہوا ہے۔ہمارے پھیپھڑے ہوا سے آکسیجن لیتے ہیں اور اس طرح ہماری زندگی کی بقا کا انتظام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی مخلوق بھی پیدا کر دی ہے جو اپنی زندگی کا