انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 112
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ۱۱۲ سورة الاعراف میہ سامان ہوا سے نہیں لیتی بلکہ پانی سے لیتی ہے۔مثلاً مچھلی ہے جس ہوا پر انسانی زندگی کا مدار ہے وہی ہوا مچھلی کے لئے موت کا پیغام بن جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے کہ جس کے گرد ہم نے ایک آسمان بنایا ہے اور اس میں ہم نے انسان کے لئے بہت سے فوائد رکھے ہیں جن کے بغیر اس دنیا میں انسانی زندگی ممکن ہی نہیں۔چنانچہ اب تک کسی بھی سائنس دان نے یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے اور نہ عقل اس کو قبول ہی کر سکتی ہے کہ ہوا کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے یا اس کے بغیر انسان سن سکتا ہے یا ہوا کے بغیر انسانی پھیپھڑے سانس لے سکتے ہیں یا انسان ان ہلاکتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جن کی یورش بڑی تیزی اور بڑی وسعتوں کے ساتھ زمین پر ہورہی ہے۔پس قرآن کریم کی رُو سے زمین وہ مخلوق ہے، وہ مجموعہ صفات ہے جس کے گرد آسمان حلقہ کئے ہے اور پھر یہ بھی کہ اس کے اندر بہت سی مفید خصوصیات پائی جاتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے کہ جس کے اندر جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ (الانبياء : ۳۱) کہ جس میں ہم نے ایک ایسا پانی پیدا کیا ہے جس پر حیات کا مدار ہے یعنی ہر دنیوی مخلوق کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے یہ زندگی شجر کی ہے تب بھی اور اگر حجر کی ہے تب بھی اس کا مدار پانی پر ہے۔پتھروں کے ذرے آپس میں نمی کی وجہ سے مل کر ٹھوس شکل میں نظر آتے ہیں اگر ان میں نمی نہ ہو تو یہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔یہ ہیرا ہیرا نہ رہے۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہے جس کی بدولت دنیا کی ہر چیز حیات پاتی ہے۔ور نہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی وجہ سے یہ جلوہ معرض تعطل میں پڑ جائے تو پانی کے بند ہو جانے سے اجزائے عناصر میں ایسا انتشار پیدا ہو جائے کہ جس سے زندگی اور بقاممکن ہی نہ رہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے جس میں الماء جاری کیا۔خالی ماء نہیں فرمایا بلکہ الماء کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پانی اپنے اجزا کے لحاظ سے وہ مخصوص پانی ہے جس پر حیات اور اس کی بقا کا مدار ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین صرف وہ نہیں جس میں ہم نے پانی پیدا کیا ہے بلکہ زمین وہ ہے جس میں ہم نے پانی کی مناسب تقسیم کا سامان بھی پیدا کیا ہے اور زمین کو Pollute ( گندہ ) ہونے سے محفوظ رکھنے کے سامان پیدا کر دیئے۔صاف پانی اور گندے پانی کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی۔اگر چہ وہ نظر نہیں آتی لیکن در حقیقت صاف اور گندے پانی کے درمیان ایک دیوار یا حد فاصل قائم ہے۔پس قرآن کریم کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے زمین کی تعریف یہ بھی کی ہے کہ جس میں ایسے مختلف اجزا پر مشتمل پانی ہو جس پر