انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 110
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة الاعراف کیا ہے کہ اس قسم کے کارنامے قرآن کریم کی تعلیم پر کوئی وجہ اعتراض نہیں بنتے۔اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ تین سوال ہیں جن کا ہمیں جواب دینا چاہیے۔ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا زمین سے باہر انسان کا زندہ رہنا ممکن ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ آیا دوسرے اجرام یعنی گڑوں پر آبادیاں ہیں یا نہیں اور کیا انسان دوسرے اجرام تک پہنچ سکتا یا تعلق کو قائم کر سکتا ہے یا نہیں اور تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم میں ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں کہ کبھی کسی زمانہ میں انسان دوسرے کروں تک پہنچ جائے گا؟ یہ تین سوال اگر حل ہو جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ پھر کسی کے دماغ میں کوئی خلفشار یا کوئی بے چینی یا مذہب سے بعد پیدا ہونے کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا انسان زمین سے باہر یعنی قرآن عظیم کی اصطلاح میں الارض کے جو معنی ہیں اس سے باہر زندہ رہ سکتا ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس زمین یعنی الارض سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن زمین سے یہاں وہ تعریف مراد نہیں جو ایک غیر مسلم کے ذہن میں ہوتی ہے۔مسئلہ زیر بحث کے سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ زمین کی تعریف اور اس کے معنی سمجھنے کے لئے اس کتاب عظیم کی طرف رجوع کیا جائے جس نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے اور یہ اعلان فرمایا ہے کہ فيها تحيون تم اسی میں زندگی بسر کرو گے اس کے باہر زندگی بسر نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں الارض کسے کہتے ہیں۔جس وقت اِدھر اُدھر بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور میرے کانوں تک بھی آواز میں پہنچ رہی تھیں اُس وقت میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور رہنمائی کی درخواست کی کہ وہ میرا خود معلم بنے اور اس مسئلہ کی حقیقت کا علم بخشے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سارا مضمون یہ بتا کر سمجھا دیا کہ قرآن کریم سے الارض کی تعریف معلوم کر لو سارا مسئلہ اپنے آپ حل ہو جائے گا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے غور کرنا شروع کیا۔آیات قرآنیہ دیکھیں اور جس حد تک میری سمجھ میں آیا ہے وہ میں اس وقت دوستوں کے سامنے بیان کردینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔قرآن کریم میں متعدد آیات ہیں جن میں زمین کے متعلق بتایا گیا ہے کہ زمین یہ ہے۔ہم نے زمین کو ایسا بنایا ہے اور ہم نے زمین میں یہ یہ خاصیتیں رکھی ہیں وغیرہ۔اس وقت میں چند مثالیں دوں گا تا کہ