انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 67 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 67

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الفاتحة آگے نکلے لیکن مقابلے میں جہاں سے دوڑ Start ( سٹارٹ ) یعنی شروع ہوتی ہے آپ نے دیکھا ہوگا دس پندرہ آدمی قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر دوڑ شروع ہوتی ہے، اگر قطار میں سارے Competitor ( مقابلہ میں حصہ لینے والوں) کو کھڑا کر دیا جائے تو بحیثیت انسان سب برابر ہیں۔اس لحاظ سے قطار میں کھڑے ہونے کی حیثیت میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جب روحانی میدان میں دوڑ شروع ہوگئی تو دوسرے آپ کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکے۔۔۔۔۔۔۔پس یہ دوسری بنیادی نعمت عظمی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے اور ايَّاكَ نَعْبُدُ کے تقاضے میں یہ تھا کہ میں نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا صحیح اور پورا استعمال کر وجس کو ہم دوسرے الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ تدبیر کو انتہا تک پہنچاؤ۔ایسا کرنے کے بعد پھر میرے پاس آؤ تب میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۹۰۸ تا ۹۲۳) سورۂ فاتحہ میں ایک حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی پیروی کرے اور بندہ اپنے رب کا عبد اُسی وقت بنتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اُس پر چڑھ جائے اور اُس کے رنگ میں وہ رنگین ہو جائے اور چونکہ انسان اپنی طاقت یا اپنے کسی حیلہ یا تدبیر کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں خود کو رنگین نہیں کر سکتا اس لئے سورۂ فاتحہ میں ہمیں یہ دعا سکھلائی اِيَّاكَ نَعْبُدُ۔اِس میں دُعا کا پہلو ہے اور اس میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی، جو تمام عیوب اور نقائص سے منزہ ہے اور تمام صفات حسنہ کا جامع ہے، اُس کی صفات کی معرفت حاصل کرو گے تو اس کی عظمت اور جلال تم پر ظاہر ہو گا اور جب اُس کی عظمت اور جلال اور اُس کی صفات کی عظمت اور جلال کا عرفان تمہیں حاصل ہوگا تو صرف اُس صورت میں ہی تم اُس کی صفات کی پیروی کر سکتے ہو اور اُس کی عظمت اور جلال کا جلوہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ فی ذاتہ کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں رکھتا اور ریا کاری جو تمام نیکیوں کو کھا جانے والا گناہ ہے اُس سے انسان اُس عظمت کے جلوہ کے نتیجہ میں محفوظ ہو جاتا ہے اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے پر چڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔دوسری بدی جو اس سعادت عظمیٰ سے انسان کو محروم رکھتی ہے اور وہ بہت بڑی بدی ہے بلکہ تمام بدیوں کی بسا اوقات وہی جڑا اور موجب بن جاتی ہے۔وہ بدی تکبر کی بدی ہے۔