انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 66
تفسیر حضرت خلیفۃ المسح الثالث ۶۶ سورة الفاتحة پھر اس کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم نعمت ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفاسیر کی شکل میں عطا کی ہے۔اس لئے اس کی قدر اسی طرح ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے ہمیشہ پڑھتے پڑھاتے رہنے کا تسلی بخش انتظام ہوتار ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جب یہ کہا کہ میرے حضور جھکو اور یہ کہو کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی یہ کہ جو نعمتیں تو نے ہمیں عطا کی ہیں ہم ان کی قدر کرتے اور ان کو صحیح استعمال کرتے اور تیری رضا کے حصول کی کوششوں میں انہیں لگاتے ہیں اور اسی طرح ایک دوسری نعمت عظمی شرف انسانی کے قیام کی صورت میں رونما ہوئی ہے یعنی ہم نے تمام بنی نوع انسان کی بحیثیت انسان عزت اور شرف اور احترام کو قائم کرنا ہے اور ایک دوسرے سے معاملہ کرتے ہوئے انسان کی عزت نفس اور اس کے انسانی شرف کا خیال رکھنا ہے اور ہمیشہ یہ یا درکھنا ہے کہ جس سے میں مخاطب ہوں یا جس سے میں کوئی معاملہ کر رہا ہوں یا جو اپنی ضرورت کے پورا کر وانے یا اپنے حق کے حصول کے لئے میرے پاس آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بحیثیت انسان میری طرح ہی عزت اور شرف رکھتا ہے یہاں تک کہ عزت نفس اور شرف انسانی کے اعتبار سے فخر انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ویسے ہی انسانی شرف کے مالک ہیں جیسے ایک دوسرے آدمی کا انسانی شرف قائم کیا گیا ہے۔آپ یہ یادرکھیں کہ شرف انسانی کے لحاظ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس شرف انسانی کی بنیاد پر اخلاقی رفعتوں اور روحانی بلندیوں کے سامان پیدا کئے اور خدا تعالیٰ کے پاک بندوں میں ایک حرکت پیدا ہوئی اور انہوں نے انتہائی سے انتہائی بلند ہونے کی کوشش کی تو اس بلند پروازی میں سیدنا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے نکل گئے اور ایسے بلند ترین مقام کو حاصل کیا کہ اس سے زیادہ تو کیا اس جتنا بھی کسی کے لئے پانا نہ پہلوں کے لئے ممکن ہوا اور نہ پچھلوں کے لئے بھی ممکن ہوگا بعض فلسفی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیوں پابندی لگا دی؟ پابندی کا یہاں سوال نہیں ہے روحانی انعامات کے حصول میں کوئی روک نہیں ہے لیکن ہمارے علام الغیوب خدا نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ نہ پہلے اور نہ بعد میں آنے والے اخلاقی اور روحانی لحاظ سے اس بلند ترین مقام کو پہنچ سکیں گے جس بلند ترین مقام پر آپ پہنچے تھے۔انسان کی تمام قوتیں جن کی شرف انسانی کے قائم ہونے کے بعد ابتدا ہوئی ہے ان کے لحاظ سے اس دوڑ میں تو آپ ہی