انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 68
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث ۶۸ سورة الفاتحة انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ میں وہ طاقت، وہ قوت وہ استعداد ہے کہ میں اپنی قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں کے نتیجہ میں کچھ بن سکتا ہوں لیکن اِيَّاكَ نَسْتَعِین کی دُعا تکبر کی جڑ کو کاٹنے والی ہے اس دو طرح پر کہ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ ہمیں ان نعمتوں اور اُن احسانوں کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے ہم پر کئے۔اس کی رحمانیت کے جلوے جو بغیر استحقاق کے ذی ارواح پر نازل ہوتے ہیں اُن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جب تک وہ نعمتیں ہمارے کسی عمل کے بغیر ہمیں حاصل نہ ہو تیں ہم کسی قسم کی ذاتی کوشش اور جدو جہد کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔مثلاً رحمانیت نے انسان کے لئے روشنی اور اندھیرے کا انتظام کیا ہے۔ایک نظام بنایا ہے اس دُنیا میں جہاں انسان کی قوتیں اپنی جدوجہد میں مصروف ہوتی ہیں اور جہاں ہماری قوتیں تھک کر رات کے اندھیروں میں سکون کی تلاش کرتی ہیں اور کوفت کو دور کر کے وہ آرام کی حالت اپنی طاقت کو از سر نو زیادہ سے زیادہ کوشش کے لئے تیار کر دیتی ہیں۔بادلوں کا برسنا، زمین کی یہ ساری قوتیں جو ہماری جسمانی غذا کا سامان پیدا کرتی ہیں اور ہماری بیماریوں کے علاج کے لئے مختلف جڑی بوٹیاں پیدا کرتی ہیں۔یہ چیزیں انسان کی پیدائش سے پہلے یہاں تھیں۔کوئی احمق کھڑا ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ میں نے نیکیاں کیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورج بنایا اور آسمان بنایا اور یہ پانی بنایا اور یہ زمین بنائی۔تم تو تھے ہی نہیں جب یہ سب کچھ بنایا گیا۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دُعا اور یہ دُعائیہ فقرہ ہمیں یہ دعا سکھلانے والا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بتایا ہے یہ رحمانیت کے مقابلہ پر رکھا گیا ہے اور رحمانیت کے جلووں کا احساس اور اُن کا عرفان اور اُن کی معرفت انسان کو اس حقیقت سے آشنا کرتی ہے کہ وہ خود اپنی کوشش اور اپنی جد و جہد سے کچھ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ جن چیزوں پر اُس کی کوشش کی بنیاد ہے وہ اُس کی پیدائش سے بھی پہلے پیدا کر دی گئی تھیں۔پس جو نعمتیں اُس کی پیدائش سے بھی پہلے پیدا کردی گئیں اور جن کے بغیر اُس کی کوئی کوشش ممکن ہی نہیں۔جب یہ معرفت انسان کو حاصل ہو جاتی ہے تو پھر اُس کے اندر تکبر کا کوئی سوراخ باقی نہیں رہتا جو اُس کے وجود کے اندر، جو اُس کی شخصیت کے اندر داخل ہو اور اُس کی تمام نیکیوں کو اور تمام نیکی کی کوششوں کو جڑ سے اکھیڑ دے۔پس إِيَّاكَ نَعْبُدُ ریا سے انسان کو بچاتا ہے اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تکبر سے انسان کو بچاتا ہے لیکن تیسری چیز جو کہ انسان کی روحانی رفعتوں کے لئے ضروری وہ اس معرفت کے علاوہ ایک اور چیز ہے۔ہمیں یہ معرفت حاصل و و