انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 65
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الفاتحة دوسری نعمتوں سے لا پرواہی برتتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور شوخی اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔پس ادب کا طریق اور عاجزی کی راہ یہی ہے کہ ہم اس کی عطا کردہ قوتوں یا صلاحیتوں یا دوسرے مادی اسباب اور روحانی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں لیکن اُن کو بت بھی نہ بنائیں یہ سمجھنا تو حماقت ہے کہ کوئی شخص اپنی قوت، اپنی قابلیت یا اپنی عقل وفراست یا اپنے فکر و تدبر کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتا ہے۔نہیں ہرگز نہیں۔یہ ساری چیزیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو روحانی نعمتیں بخشی ہیں ان کے صحیح استعمال کے باوجود ہم روحانی رفعتیں حاصل نہیں کر سکتے جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو کیونکہ روحانی رفعتیں یا روحانی بلندیاں جن ستونوں کے سہاروں پر کھڑی ہیں وہ انسان کے بنائے ہوئے ستون اور سہارے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے ستون اور سہارے ہیں۔ان سہاروں کے بغیر انسان رفعتوں اور بلندیوں پر کھڑا رہ ہی نہیں سکتا جو شخص اپنے آپ کو بڑا بلند سمجھنے لگتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا سہارا نہیں لیتا وہ بلندیوں سے گرتا ہے اور اس کے پر نچے اُڑ جاتے ہیں اور اس کا درخت وجود ذرہ ذرہ ہو کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ کی بنیادی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت قرآن عظیم ہے اور اس کی خصوصا وہ تفسیر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو جو نماز کی ہر رکعت میں پڑھنے کا حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ بات ہر وقت تمہارے سامنے رہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مختلف نعمتیں عطا کی ہیں مثلاً مختلف قوتوں یا قابلیتوں کی شکل میں مختلف اسباب کی شکل میں یا قرآن کریم کی مختلف تفاسیر کی شکل میں یا زبان کی شکل میں یا خشوع و خضوع کی شکل میں یا فکر و تدبر کی شکل میں یہ ساری خدا داد قو تیں اور قابلیتیں اور یہ سارے ساز و سامان اور یہ سارے خداداد ملاکات خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں خرچ ہونے چاہئیں۔جب اس طرح عبادت کی جائے اور دنیوی اعمال بجالائے جائیں تو پھر تم ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کے مستحق ٹھہرتے ہو پھر تمہیں میرے حضور دعا کرنی چاہیے اور مجھ سے ہی مانگتے رہنا چاہیے اور یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرمائے اور مزید رفعتوں کے حصول کے دروازے کھول دے۔پس اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت تو قرآن کریم ہے اور