انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 64

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۶۴ سورة الفاتحة نہ چھوڑ دیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے ذریعہ قرآن کریم کے حقائق سمجھ کر ان پر عمل پیرا رہنے پر ہماری نجات منحصر ہے اسی میں ہماری اپنی خوشحالی اور ہماری اگلی نسلوں کا آرام اور خوشحالی کا راز مضمر ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو بار بار ވ ވ پڑھنا اور ان سے فائدہ اُٹھا نا ايَّاكَ نَعْبُدُ کے ماتحت آتا ہے کیونکہ یہ ایک عطا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل ہے تم اس سے فائدہ اُٹھاؤ اور جب فائدہ اُٹھانے کی پوری تدبیر کر لو اور جب ان تفسیروں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اپنی تمام قوتوں اور طاقتوں اور سامانوں کے استعمال پر اپنا پورا زور لگا چکو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے پھر میرے حضور آؤ اور مجھ سے مانگو اور کہو کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر بڑی نعمتیں نازل کیں اور تو نے سب سے بڑی نعمت قرآن عظیم کی شکل میں عطا کی اور پھر ان کی تفسیر کرنے کے لئے تو نے دنیا میں اپنے مطہرین کا گروہ بھیجا، انہوں نے تفسیریں لکھیں، پھر تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور ہمیں اُن پر ایمان لانے کی توفیق بخشی ، ہم نے آپ کی کتابوں کو پڑھا اپنی طرف سے ان کو سمجھنے کی مقدور بھر کوشش کی ، اپنی طرف سے یہ کوشش بھی کی کہ جن ہدایتوں پر وہ مشتمل ہیں اُن پر عمل پیرار ہیں لیکن ہماری یہ ساری کوششیں بے کار ہیں۔اگر تیرا دست قدرت یاوری نہ کرے، ہم فائدہ تو تب ہی حاصل کر سکتے ہیں جب کہ تیری مدد ہمارے شامل حال ہو، جب تیری نصرت کے ہم مستحق ٹھہریں۔پس ايَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تیرے پاس مدد و نصرت لینے کے لئے آئے ہیں۔اس یقین کے ساتھ کہ تیری مدد کے بغیر ہماری کسی کوشش یا تدبیر کا کوئی نتیجہ کہیں نکل سکتا ہے اور نہ اسباب کے کسی استعمال کا فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ کسی فکر اور غور اور تدبر کا نہ خشوع کا کیونکہ خشوع و خضوع میں بھی بعض دفعہ شیطان کا دخل آ جانے سے بناوٹ آ جاتی ہے۔انسان خودرو ر ہا ہوتا ہے اور دراصل وہ شیطانی آنسو ہوتے ہیں، اُسے خود بھی پتہ نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھتے تو امان ہے ورنہ امان کہیں بھی نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم عبادت کے تقاضے کو پورا کر لو گے تو پھر میں تمہارے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کی رو سے تم نے جو مجھ سے مدد مانگی ہے اور نصرت طلب کی ہے وہ میں تمہیں عطا کروں گا میں تمہاری مدد کے لئے آ جاؤں گا لیکن میری مدد تم کے حصول سے قبل تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں عبادت کے جن نقاضوں کا ذکر ہے تم ان تقاضوں کو پورا کرنے والے بنو کیونکہ جو شخص خدا دا د قوتوں اور طاقتوں اور اس کی عطا کردہ و