انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 580
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۸۰ سورة النساء بحیثیت مجموعی ساری کائنات کی۔اس کو تو کوئی احتیاج نہیں لیکن ہمیں اس کی احتیاج ہے۔ہمیں ہر آن اس کی وقیوم خدا کی زندہ اور پیاری تجلیات کی ضرورت ہے اور احتیاج ہے۔اسی واسطے میں نے اپنے خطبے کے شروع میں جو آیات پڑھی تھیں ان میں بتایا تھا کہ وَاعْتَصَمُوا بِه پس دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر کے اس کی زندہ قدرتوں کی تجلیات اپنی زندگیوں میں دیکھنے کے لئے جدو جہد کریں۔اس کے لئے مجاہدہ کریں۔اس کے لئے قربانیاں دیں۔اس کی ناراضگی سے بچنے والے ہوں۔اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے والے ہوں۔خدا کرے کہ ہم سارے کے سارے اپنے زندہ خدا سے زندہ تعلق رکھنے والے بن جائیں۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۰۲،۱۹۵) اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر میرے عذاب سے بچنا چاہتے ہو اگر میری ذلت سے بچنا چاہتے ہو تو تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا کوئی اور تمہیں بچ نہیں سکتا اور اگر میری رحمت کے تم وارث ہو جاؤ تو دنیا کی طرف تمہیں نگاہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا تو ایک مرے ہوئے مچھر کے کیڑے سے بھی کم حقیقت رکھتی ہے پھر تمہیں ان کی کیا پرواہ ہے؟ یہ مضمون مختلف آیات میں اپنے Context (کٹیکسٹ ) میں بھی ہے اور جو میں نے ان آیات کی ترتیب دی ہے اس سے ایک اور مضمون ابھرتا ہے پہلی آیت میں یہ بتایا تھا کہ عذاب یا رحمت کا پہنچا نا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اس واسطے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اگر تم اس کے عذاب سے بچنا اور اس کی رحمت سے حصہ لینا چاہتے ہو۔سورۃ النساء کی اس دوسری آیات میں (جس کی میں نے تلاوت کی ہے ) یہ کھول کر بتایا گیا ہے کہ اِعْتَصَمُوا بِہ اللہ تعالی کے ذریعہ سے شیطانی یلغار، نفس کی یلغار، دل کے بد خیالات ہیں ان کی یلغار، نفاق کی یلغار، مخالفت کی یلغار، انکار کی یلغار اور مخالفانہ منصوبوں کی یلغار اور سب لوگوں کے اکٹھے ہو کر مغلوب کر دینے کی یلغار سے اپنے بچاؤ کا انتظام کرو۔جتنی بھی کوئی تصور میں لاسکتا ہے یا حقیقت میں پیدا ہوسکتی ہیں ان سے ا بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کو اپنا ذریعہ بناؤ اس کی طرف آؤ اور اس کا ذریعہ یہ ہے فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو تب تم اللہ تعالی کی پناہ میں آ جاؤ گے اور جب تم اللہ کی پناہ میں آ جاؤ گے تو پھر دنیا تمہیں ذلت کے گڑھے میں پھینک نہیں سکے گی پھر دنیا تمہیں عذاب کے تندور کے اندر دھکیل نہیں سکے گی پھر دنیا تمہارے ناک