انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 579
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۷۹ سورة النساء اسلام کا خدا نہیں ہے۔اسلام کا خدا فرضی خدا نہیں ہے جو محض قصوں اور کہانیوں کے سہارے سے مانا جاتا ہو۔یہ نہیں ہے کہ محض عقلی دلائل یا محض پرانے قصے ہوں کہ فلاں وقت میں یوں ہوا اور فلاں وقت میں خدا تعالیٰ نے اپنی عظمت کا یا اپنی زندگی کا یہ جلوہ ظاہر کیا اور آج میری زندگی میں خاموشی۔پس اسلام کا خدا فرضی خدا نہیں ہے اور اسے کسی قصے یا کہانی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔پہلی بات یہ تھی کہ ہمارا خدا فرضی خدا نہیں ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے۔ہم اسے محض اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے قبول نہیں کرتے بلکہ اس لئے قبول کرتے ہیں کہ اس زندہ خدا کی زندہ قدرتیں ہماری زندگی کے اندر جلوہ دکھاتی ہیں اور اس کی زندہ طاقتوں کو ہم اپنے حواس سے محسوس کرتے ہیں۔ہم اپنے جسمانی حواس سے بھی محسوس کرتے ہیں اور ہم اپنے روحانی حواس سے بھی محسوس کرتے ہیں۔مختلف قسم کے حواس جو خدا تعالیٰ نے انسان کو دیئے ہیں ان کے ذریعے وہ ہمیں اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے۔یہ ہے اسلام کا خدا! ایک زندہ خدا، زندہ طاقتوں والا خدا! جس کی زندگی کی علامات ہماری اپنی زندگیوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا بعض دفعہ انسان نا سمجھی کی باتیں کہہ دیتا ہے۔خدا سے پیارے رنگ میں ایک چیز مانگتا ہے اور پھر خدا دے بھی دیتا ہے۔ایک دن میں نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے خدا! تو نے جسم کی جسمانی لذت کے لئے بہت سی چیزیں پیدا کی ہیں آدمی اچھا کھانا کھا رہا ہو تو وہ ایک لذت محسوس کرتا ہے۔اچھے نظارے دیکھ کر ایک لذت محسوس کر رہا ہوتا ہے۔بے شمار چیزیں ہیں۔میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تیرے عام قانونِ قدرت کے مطابق جو انسان کو اچھی لگنے والی چیزیں ہیں جو اس کی طبیعت میں اور اس کی روح میں سرور پیدا کرتی ہیں کے بغیر مجھے تو سرور اور لذت دے اور چند منٹ نہیں گزرے تھے کہ میرا سارا جسم سر سے لے کر پاؤں تک ایک خاص قسم کی لذت اور سرور محسوس کرنے لگ گیا اور قریباً چوبیس گھنٹے تک یہی حالت رہی۔یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن بڑی عظیم بات بھی ہے۔پس ہمارے خدا کے سامنے کوئی چیز انہونی نہیں ہے۔وہ زندہ خدا، زندہ قدرتوں والا خدا ہے۔اس کی زندگی کی علامات ہمیں اپنے وجود کے اندر نظر آتی ہیں۔زندہ خدا کی زندہ قدرتوں کے نظارے جب ہم دیکھتے ہیں تو ہم اس کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔خدا تو غنی ہے، صمد ہے، اس کو کسی کی احتیاج نہیں نہ کسی انسان کی نہ سارے انسانوں کی اور نہ