انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 568
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۶۸ سورة النساء حکم ہو کہ ایسا کر دیا یہ حکم ہو کہ ایسا نہ کرو وہ ہماری قوتوں اور استعدادوں کی صحیح تربیت اور صحیح نشو نما کے لئے ہے اور جب ہم کسی حکم کو توڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کہنا نہیں مانتے تو اس کا نقصان ہمیں ہے کیونکہ پھر ہماری صحیح اور پوری اور پیاری نشو ونما نہیں ہوسکتی ، پھر ہمارے وجود کی وہ نشوونما نہیں ہوسکتی جس نشو ونما کے بعد ہمارا نفس خدا کے پیار کو حاصل کر سکے۔تو گناہ کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے لیکن اصل وہ الٹ کے اسی شخص پر گناہ کرنے والے پر آ کے پڑتا ہے اور یہ اس لئے کہا کہ خدا تعالیٰ عَلِیماً خدا تعالیٰ کے علم سے کوئی باہر نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو پیدا کیا اور اس کی ساری قوتوں اور استعدادوں کا صحیح اور کامل علم رکھنے والا ہے۔انسانی استعدادوں اور قوتوں اور صلاحیتوں کی کامل نشوونما کے لئے اور جس کے نتیجہ میں روحانی نشو و نما اپنے کمال کو پہنچتی اپنے اپنے دائرہ استعداد کے اندر اور خدا تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ پیار کو حاصل کرنے والی بن جاتی ہے۔اس علیم نے ، اس عظیم خدا نے سارا اس علم کے ماتحت ایک طرف اس عالمین کو پیدا کیا اور دوسری طرف انسان کو اور اس کی فطرتوں کو اور اس کی صلاحیتوں کو اور اس کے قومی کو پیدا کیا اور ہر چیز میں اس نے ایک حکمت رکھی اور ہر چیز کی حکمت اس نے قرآن میں بیان کی اور ہمیں سمجھایا کہ تمہارے اوپر کوئی بوجھ نہیں ڈال رہے تمہارے فائدے کے لئے ہر حکم ہے، تمہیں بلند کرنے کے لئے ہر حکم ہے۔ایک جگہ کہا کہ ہم نے تو اس کو آسمانوں کی بلندیوں کی طرف لے جانا چاہا تھا لیکن وہ زمین کی طرف مائل ہو گیا اور خدا سے دور ہو گیا۔ہر فعل خدا کا حکیمانہ ہے حکمت رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ کا ہر حکم جو ہے وہ ایک دلیل ہمارے سامنے رکھتا ہے ہمیں حکمت بتاتا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور کوچ مالج کے،حسین بنا کر ، پاک اور مطہر وجود بنا کر اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ جو سر چشمہ ہے پاکیزگی اور طہارت کا ہمارا رب، اس کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہو سکے۔وہ جو پاکیزگی اور طہارت کا سرچشمہ ہے وہ نا پاک سے تو تعلق نہیں قائم کر سکتا ، عقلا نہیں کر سکتا۔میں اور آپ بد بودار جگہ سے گزرتے ہیں اور اس سے گھن آتی ہے اور اس تعفن کو ہم پسند نہیں کرتے ، ہماری طبیعت متلا جاتی ہے بعض دفعہ۔ہم عاجز بندوں کا یہ حال ہے تو وہ خدا جو محض پاکیزگی اور طہارت ہے اور ہر قسم کی پاکیزگی اور طہارت کا چشمہ جو ہے وہ اسی سے نکلتا اور ہم تک پہنچتا ہے وہ ناپاک کو کیسے پیار کرے گا۔تو ہر حکم جو ہے وہ ہمیں پاک بنانے والا مظہر بنانے والا ہمارے گند کو اور غلاظتوں کو دھونے والا ، ہم پر نور چڑھانے والا اللهُ نُورُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ٣٦) اس نور کو،