انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 569
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۶۹ سورة النساء ہمارا وہ نور جو خدا تعالیٰ سے ہمیں حاصل ہوتا ہے اس نور کو خدا پسند کرتا ہے۔خدا اندھیروں کو پسند نہیں کرتا اندھیروں سے وہ نفرت کرے گا کیونکہ اندھیرا ہے خدا سے دوری کا نام جس طرح مادی ظلمت ہے نور سے دوری کا نام۔دن کے وقت آپ کھڑکیاں اگر آپ کی لائٹ پروف ہوں یعنی کوئی سورج کی کرن اندر نہ جا سکے بند کر دیں گے تو دن کے باوجود سورج نصف النہار پر ہو گا آپ کے کمرے کے اندراندھیرا ہو جائے گا۔تو جو شخص اپنے گناہوں کے نتیجہ میں اپنے وجود کی ان کھڑکیوں کو جو خدا تعالیٰ کی طرف کھلنے والی ہیں بند کر دیتا ہے اور اپنے نفس میں اندھیرا پیدا کر دیتا ہے خدا کا نور وہاں کیسے داخل ہو سکتا ہے۔تو یہاں دوسری آیت میں یہ بتایا کہ تم جو گناہ کرتے ہو دوسروں کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ حقیقی نقصان اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ اس کا بدلہ ان کو دیتا ہے۔تمہیں حقیقی نقصان ہے کیونکہ تم خدا سے دوری کی راہوں کو اختیار کر کے، اس نور سے دور ہٹ کے ظلمات کو اختیار کر کے، اس پاک سے جدائی اختیار کر کے گندگی کو اختیار کرتے ، اس کی ناراضگی کی جہنم کو اپنے لئے پیدا کرتے ہو۔خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کے وارث بننے کے لئے سامان پیدا نہیں کرتے۔اور تیسرے قسم کا جو گناہ مرکب ہے کہ گناہ کیا اور تہمت دوسرے پہ لگا دی، یہ اس کا بھی آج کل فیشن ہوا ہوا ہے کہ نا کردہ گناہ پر گناہ کی تہمتیں لگائی جاتی ہیں اور پھر فخر بھی کیا جاتا ہے بعض حلقوں میں اللہ تعالیٰ فضل کرے اور سمجھ دے ان لوگوں کو۔تو یہاں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ، حقوق نفس کی ادائیگی کی طرف توجہ، حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف توجہ اور انسان بشری کمزوری یا ضعف استعداد کے نتیجہ میں اگر گناہ کرے تو استغفار کا دروازہ اس کے لئے کھلا ہے اور غفور رحیم خدا ہر وقت اسے جب وہ اس کی طرف رجوع کرے رجوع بر رحمت اس کی طرف ہونے کے لئے تیار ہے اور پھر ہمیں یہ سمجھایا کہ تمہارے اوپر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جارہا بلکہ ہر گناہ تمہارے لئے ابدی دکھ کا باعث بننے والا ہے اس سے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے تمہیں۔تمہارے اپنے فائدے کے لئے ہے۔چوری کے مال کا نقصان جتنا اس مال کے مالک کو ہے اس سے زیادہ تمہیں ہے۔اس کو تو ہزار روپے کا نقصان یا ایک بھینس چرا لیتے ہیں لوگ ، جا کے رستہ کھول لیتے ہیں رستہ گیر۔اس کو دو ہزار تین ہزار بہت اچھی بھینس