انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 567 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 567

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة النساء پوری طرح جب سیراب ہو جائے پھر پانی جو بچ جائے وہ اس کو چھوڑ دو، آپ ہی اس کے پاس پہنچ جائے گا۔تو نفس کے حقوق ہوں یا غیر کے حقوق ہوں، عزیز رشتے دار کے حقوق ہوں یا غیر مسلم کے حقوق ہوں حقوق کی ادائیگی تو اس لئے کرنی ہے کہ خدا کہتا ہے کہ میں نے یہ حق قائم کیا اس حق کو قائم کرو۔اس لئے ہم نے ادا نہیں کرنا کہ ہم چاہتے ہیں ہم کسی پر احسان کریں یا ہم چاہتے ہیں کہ کسی پہ احسان نہ کریں۔جو حق خدا نے قائم کر دیا مثلاً جو حق خدا نے رب العالمین کی حیثیت سے قائم کر دیا کوئی دنیا میں انسان نہیں پیدا ہوا کہ جسے خدا نے یہ حق دیا ہو کہ وہ ان حقوق کو پامال کرے خواہ وہ حقدار جو ہیں وہ بت پرست اور مشرک ہی کیوں نہ ہوں خواہ وہ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والے دہر یہ کیوں نہ ہوں خواہ وہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کی اندھی مخالفت کرنے والے کیوں نہ ہوں خواہ وہ ساری عمر آپ کو ایذا پہنچانے والے کیوں نہ ہوں۔کسی کو کوئی حق نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا اسوہ جو ہمیں نظر آتا ہے یعنی نمونہ ہمارے لئے وہ یہ ہے کہ جس حق کو خدا نے قائم کیا بندے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اس حق کو توڑے۔خدا تعالیٰ نے جو حق قائم کئے ہیں وہ بنیادی طور پر صفت ربوبیت کے نتیجہ میں ہیں صفت رحمانیت کے نتیجہ میں ہیں صفت رحیمیت کے نتیجہ میں ہیں، صفت مالکیت یوم الدین کے نتیجہ میں ہیں، جس کا ایک دھندلا سا عکس اس ہماری زندگی میں آتا ہے وہ اپنا مضمون مستقل حیثیت کا ہے اس وقت نہیں ہمارے سامنے۔تو حقوق العباد کو قائم کرنا ضروری ہے حقوق نفس کو ادا کرنا ضروری ہے جو نہیں کرتا، پھر تو بہ کرتا اور استغفار کرتا، خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے اسے میں معاف کر دوں گا۔اور دوسری آیت میں ہر قسم کے گناہ کا اشیا میں ذکر ہے یعنی خواہ حقوق نفس ہوں یا حقوق العباد ہوں یا حقوق اللہ ہوں جو شخص بھی گناہ کرتا ہے وَمَنْ يُكْسِبُ اِثْمًا جو شخص بھی بدی کرتا ہے تو بدی کا پہلا اور جو پہلا اور آخری اثر میں کہوں گا ، پہلا اور آخری اثر اس کا اس کے اپنے نفس پر ہے۔فائما يَكْسِبُهُ عَلی نفیسہ اس کا فعل اس پر الٹ کے پڑتا ہے مثلاً اگر وہ چوری کرتا ہے دوسرے کا مال لوقتاً ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے اس گناہ نے اس کے دوسرے انسانی بھائی کو دکھ پہنچایا، اس کا گناہ کیا اس نے لیکن اس کا حقیقی اثر یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے پر خدا کی رضا کی جنت کے دروازے بند کئے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر حکم جو ہے خواہ وہ اوامر میں سے ہو یا نوا ہی میں سے ہو یعنی یہ