انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 539
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۳۹ سورة ال عمران ہے کہ یہ راستہ جاتا ہے خدا کو پہچاننے عرفان اور معرفتِ الہی کی طرف اور ذکر کرنا تفکر فی مصنوعات کرنا ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرنا یہ شرائط قبولیت دعا ہیں۔ذکر اللہ میں ہمیشہ مشغول رہنا۔دل اور دماغ اور روح کے ساتھ تفکر کرنا یعنی معرفت حاصل کر کے اور معرفت اور اس عرفان کا احساس دل اور روح میں بیدار رہنا۔معرفت یہ نہیں ہے کہ کوئی چیز ملی اور جیب میں رکھ لی معرفت تو ایک احساس ہے جو روح میں پیدا ہوتا ہے جو احساس ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدا تعالی بڑی عظمتوں والا خدا تعالیٰ بڑے جلال والا ، خدا تعالیٰ بڑے حسن والا نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ہے۔ہر چیز پر وہ قادر ہے۔کوئی چیز اس کے سامنے ان ہونی نہیں۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی دنیا کی طاقت اس کے منصوبوں کو نا کام نہیں کر سکتی۔وہ تمام صفات باری جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی بیان کی ہیں ان سب کو اپنے ذہن میں، اپنے دل میں، اپنے مائنڈ (Mind) میں، قلب میں حاضر رکھنا اور روح کا اس احساس سے لذت حاصل کرنا یہ ہیں شرائط قبولیت دعا۔تو ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی حمدوثنا میں مشغول رہنا اور اس یقین پر قائم ہونا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی فعل عبث اور باطل نہیں ہے۔بے حکمت نہیں ہے۔مصلحتوں سے خالی نہیں ہے۔ہر چیز جو اس نے پیدا کی وہ کسی مصلحت کے نتیجہ میں پیدا کی اور انسان کو بھی اس نے کسی مصلحت کے لئے پیدا کیا جس کا ذکر قرآن کریم نے یہ کہہ کے کیا ہے کہ میں نے اس لئے پیدا کیا ہے اے انسان تجھے کہ تو خدا تعالیٰ کا عبد بننے کی کوشش کرے اور اپنی تمام طاقتوں پر اس کا رنگ چڑہا کے اس کے حسن میں سے حصہ لے جو تیرے دل نے اور تیری روح نے خدا کے وجود میں دیکھا اور مشاہدہ کیا اور پھر شرط لگائی ہجرت کی اور مجبور کر کے وطن سے بے وطن کئے جانے کی۔اس کے ایک ظاہری معنی ہیں ایک صوفیا نے معنی کئے ہیں اور انہوں نے یہ معنی کئے ہیں کہ اپنے نفس سے دوری یعنی اپنے نفس کی خواہشات کو پورا نہ کرنا اپنے نفس کا ایک وطن ہے اس کی عادتیں ہیں جہاں وہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ان کو چھوڑ نا خدا کے لئے بے نفس ہو جانا جن چیزوں سے محبت اور پیار ہے ان کو ترک کر دینا۔خدا تعالیٰ کے لئے ایڈا کو برداشت کرنا اور ایذا کو ایذا نہ سمجھنا اور جو شیطانی وساوس کی یلغار ہو انسان پر اس کے خلاف جنگ لڑنا ، دفاعی جنگیں کرنا۔پس صوفیا اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ شیطانی وسوسوں کے خلاف جنگ کرنا کامیابی کے ساتھ اور