انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 538 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 538

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۳۸ سورة ال عمران حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ روایت منسوب ہوتی ہے تَفَكُرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِّنْ عِبَادَةِ سِنینَ سَنَةٌ کہ ایک گھڑی کا تفکر ساٹھ سال کی عبادت ظاہری سے زیادہ بہتر ہے۔ظاہر ہے کہ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً یہاں اس عبادت کا ذکر ہے جس میں تفکر نہیں۔قلب اور روح کا حصہ نہیں۔یعنی جس عبادت میں ہمارا دل شامل نہیں ہوا صرف ظاہر ہے، جس عبادت میں ہماری روح چھل کے آستانہ الہی یہ نہیں یہ بھی محض نمائش ہے اور ریا ہے آپ کو سمجھانے کے لئے ستین سَنَةٌ کہہ دیا۔یعنی بلوغت کی ساری عمر کی کھو کھلی عبادت سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ چھلکا ہے وہ تو کھوکھلی چیز ہے اس کے اندر تو کوئی حقیقت نہیں ، کوئی اخلاص نہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے کوئی پیار اور محبت نہیں، اس محبت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ پر قربان ہونے کی کوئی خواہش نہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے ہر چیز کو چھوڑ دینے کا کوئی عزم نہیں۔وہ عبادت تو خدا تعالیٰ قبول نہیں کرے گا۔ان آیات کے بعد دعا کی تعلیم دی اور اس میں یہ ہمیں بتایا گیا کہ دعا کی قبولیت کے لئے کوئی وسیلہ ہونا چاہیے۔یعنی کوئی ایسی شکل ہونی چاہیے کہ دعا قبول ہو جائے۔ایسی دعا جو استحقاق پیدا کر رہی ہو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قبولیت کا اور یہاں جو پہلے بیان ہوا ہے وہ یہی ہے کہ ذکر اور فکر ہر دو سے تعلق رکھنے والی عبودیت کے جو تقاضے ہیں جب وہ پورے کئے جائیں تب دعا قبول ہوتی ہے۔اگر ایک شخص ساری رات جاگ کے دعا کرے اور ہر رات جاگ رہا ہوا اپنی زندگی میں لیکن عمل نہ کرے خدا تعالیٰ کے احکام پر اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔دعا کی قبولیت کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں ان آیات میں اور یہی چیز میں اس وقت آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔بیان کی گئی ہیں یہ شرائط شروع میں بھی اور پھر آخر میں بھی۔پہلے تو یہ کہا کہ ذکر کرنے والے اور تفکر کرنے والے جو ہیں وہ جسم کے لحاظ سے، بدن کے لحاظ سے بھی عبودیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور قلب و روح کے لحاظ سے بھی عبودیت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہیں اور یہاں جو ذکر اور فکر تھا اس کی روح یہ ہے کہ ہر وقت خدا کے ذکر میں مشغول رہنا اور خدا تعالیٰ کی جو مصنوعات ہیں جو خلق ہے اس سے دل کا ، ذہن کا ، روح کا صحیح استدلال قائم کرنا کیونکہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی طرف پوائنٹ (Point) کر رہی ہے۔ایک نشان ہے جس طرح سڑکوں پرنشان ہوتا ہے۔یہ راستہ جاتا ہے لاہور کی طرف۔خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہر شے جو ہے وہ نشان دو