انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 540 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 540

تفسیر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۵۴۰ سورة ال عمران شیطان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہ دینا کہ وہ جسے خدا نے اپنا بندہ بنانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اسے شیطان اپنا بندہ بنادے اور خدا کی راہ میں قربان ہو جانا شہادت پانا اور ہر چیز قربان کر کے بھی خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول نہ لینے کے سامان پیدا کرنا۔یعنی یہ نہ برداشت کرنا کہ خدا ناراض ہو جائے۔دنیا جائے ، رشتہ دار جائیں، تعلقات ٹوٹیں اپنے بیگانے ہوجائیں، جو ہو سو ہولیکن انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کرے۔صوفیا اس کو شہادت کہتے ہیں اور ظاہری طور پر بھی پھر بسا اوقات بعض لوگوں کو خدا کے حضور جان پیش کرنی پڑ جاتی ہے۔تو یہ دس شرائط یہاں قبولیت دعا کی بیان ہوئی ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دعا کی قبولیت کا حق (اسی کے کہنے پر) پیدا کر لیتی ہے ورنہ انسان کا کوئی حق نہیں خدا پر۔لیکن خدا کہتا ہے ا اگر یہ دس باتیں تم اپنے اندر پیدا کرو گے تو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لکھ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ سارا دن خدا کو بھولے رہو۔ساری راتیں اپنی غفلت میں بسر کرو اور پانچ منٹ خدا کے حضور دعا کرو اور سمجھو کہ خدا پر قرض ہو گیا کہ خدا تمہاری دعاؤں کو قبول کرے۔اسے تمہاری حاجت نہیں تمہیں خدا کی حاجت ہے۔سارے کا سارا خدا کا ہو جانا جسمانی لحاظ سے بھی قلبی اور روحانی لحاظ سے بھی اور جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ذکر اللہ میں مشغول رہنا قلب و روح کا مصنوعات باری میں تفکر کرنے کے بعد صحیح نتائج نکالنا، ربوبیت خداوندی کا اعتراف کرتے ہوئے حمد وثنا میں مشغول رہنا، اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک سمجھنا جو اس کی طرف عبث اور باطل چیز کو منسوب کرنے والی ہو ، تا اس کی راہ میں ہجرت کرنا، بے وطنی کو قبول کرنا ، ہر قسم کی اندرونی اور بیرونی ایذا کو برداشت کرنا، شیطانی حملوں کا کامیاب مقابلہ کرنا اور فنا کی حالت اپنے پر طاری کر لینا۔خدا کہتا ہے میں ایسے بندوں کی دعا ئیں اپنے فضل سے سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی بات منوائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا کے فضل سے ہی انسان جنت میں جاتا ہے اپنے کسی عمل سے نہیں۔یہاں بھی خدا تعالیٰ نے جب دعا قبول کر کے ثواب دینے کا ذکر ہوا ہے تو وَ لَادْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهُرُ فرمایا کہ میرے فضل سے جنتیں مل گئیں خدا کی رضا کی۔یہ نہیں کہا تم نے دس شرائط پوری کیں اس لئے اس نے جنت میں بھیج دیا۔یہ کہا ہے ثوابًا مِّنْ عِنْدِ اللہ یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ثواب ہے۔تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ