انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 526
تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۵۲۶ سورة ال عمران تو بھی خدا تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھانا تھا کیونکہ یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالب آئیں گے اپنے مخالفوں پر۔بشارت پہلے سے موجود تھی۔اور پانچویں آیات کے معنی ہیں وہ آیات قرآنی جن آیات میں شریعت اور ہدایت کا ذکر ہے مثلاً یہ کہ نماز پڑھو، ذکر الہی میں مشغول رہو تو یہ جو آیات ہیں کئی سوجن میں احکام باری تعالی ہیں، اوامر و نواہی، ان کو بھی قرآن کریم نے آیت کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری چیز آپ یہ لے کے آئے ویزکیھم میں بہت سارا ابہام لوگوں نے پیدا کر لیا۔ابہام کوئی نہیں۔آپ ایسی تعلیم لے کے آئے جو طہارت اور پاکیزگی پیدا کرنے والی ہے۔طہارت اور پاکیزگی کا معیار تسلیم کرنا یا مقرر کرنا یہ انسان کا کام نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اس واسطے صحیح معنی ہیں اور سچے طور پر مز کی پاک کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔آپ ایسی تعلیم لے کے آئے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ يه چار چیزیں ہیں۔اس کے نتیجہ میں اور شریعت کے اوپر جو عمل کرنا ہے اس کے نتیجے میں امت محمدیہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کے اور اُمت مسلمہ کے مومنین کی جو جماعت صدیوں میں پیدا ہوئی اور گزری ان کے لئے یہ ممکن کر دیا کہ خدا کی نگاہ میں وہ پاک اور مطہر ہو جائیں اور سارے وعدے ان کے حق میں پورے ہوں جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مظہر اور مزکی کے لئے دیئے ہیں۔مثلاً ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا ہمکلام ہوگا۔لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :) قرآن کریم میں ایک وعدہ یہ دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخفی معانی جن کا ضرورت زمانہ یا خطہ ارض کی ضرورت مطالبہ کر رہی ہے۔وہ نئے نئے علوم پاک لوگوں کو سکھائے جائیں گے۔قرآن کریم نے یہ وعدے کئے ہیں۔بہت سارے وعدے ہیں۔تفصیل میں جانا مشکل ہے۔اس حقیقت کو قرآن کریم نے ایک جگہ اس طرح بیان کیا کہ وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُه اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی مَازَ کی مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ ابدا ا تم میں سے کوئی بھی بھی پاک اور مظہر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہ ٹھہر سکتا۔وَلَكِنَّ اللهَ يُزَكّي مَنْ يَشَاءُ ( النور : ۲۲) لیکن خدا تعالیٰ جسے پسند کر لیتا ہے، اس کے اعمال کے نتیجہ میں، اس کے دل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نتیجہ میں ، اس عرفان کے نتیجہ میں جو وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا حاصل کر سکا، خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے نتیجہ میں،